خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان، وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کا فیصلہ
- وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال، امن و امان کے مسائل اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم صدر مملکت کو سمری ارسال کریں گے، جس کے بعد صدر آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرسکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منگل، 13 اکتوبر کو طلب کیے ہیں، جن میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے مجوزہ نفاذ پر غور اور منظوری حاصل کی جائے گی۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے اندرونی خلفشار کی صورت میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو۔ اس آرٹیکل کے تحت صدر کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلان منظوری کے لیے مقررہ مدت، یعنی 10 دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ضروری ہے۔
آئینی طریقہ کار کے مطابق ہنگامی حالت کا اعلان دو ماہ بعد غیر مؤثر ہوجاتا ہے، اگر اس مدت کے اختتام سے قبل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس کی منظوری حاصل نہ کی جائے۔ مشترکہ اجلاس میں دونوں ایوانوں کی مجموعی رکنیت کی اکثریت سے اعلان مسترد ہونے پر بھی یہ ختم ہوسکتا ہے۔
آئین کا آرٹیکل 234 صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا ایک الگ طریقہ بھی فراہم کرتا ہے، جس کے تحت صدر گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر اس صورت میں اعلان کرسکتے ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی۔
صدر مملکت کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو ایوان صدر میں آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
ملاقات میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026





















Comments