راہول گاندھی، بھارتی اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ انتخابی سربراہ کے خلاف احتجاج پر مسلسل دوسرے روز گرفتار
- متنازع ووٹر فہرستوں پر استعفے کا مطالبہ، بھارتی پولیس نے انتخابی سربراہ کے خلاف احتجاج کرنے والے راہول گاندھی اور اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا
بھارتی پولیس نے بدھ کو اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور متعدد ارکانِ پارلیمنٹ کو دو روز کے دوران تیسری مرتبہ حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب انہوں نے ووٹر فہرستوں میں متنازع ترمیم کے معاملے پر انتخابی سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اچانک احتجاج شروع کیا۔
اپوزیشن جماعتیں، ان کی طلبہ تنظیمیں اور ’’کاکروچ‘‘ نوجوان تحریک گزشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس کی جانب سے انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے پر الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد تقریباً روزانہ احتجاج کررہی ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ رپورٹ کے بعد انتخابی کمیشن کی غیر جانب داری کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے منگل کو بھی احتجاج کیا تھا اور گیانیش کمار اور ان کے نائبین سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کردیا اور انہیں مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔
بدھ کا احتجاج کانگریس کی جانب سے وسطی دہلی کے ایک ریسٹورنٹ میں ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے دی گئی ظہرانے کی دعوت کے بعد شروع ہوا۔ یہ مقام جنتر منتر کے قریب تھا، جہاں حکام احتجاج کی اجازت دیتے ہیں۔
گاندھی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’کل دہلی پولیس نے ہمیں روکا اور کہا کہ آپ یہاں احتجاج نہیں کرسکتے، اس لیے آج ہم مقررہ احتجاجی مقام پر جائیں گے، وہاں بیٹھیں گے اور ملک کو بتائیں گے کہ ہمارے لیے گیانیش کمار جائز کمشنر نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے جنتر منتر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے یہ (ووٹ چوری) کی ہے وہ غدار ہیں۔۔۔ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ اس بس میں سوار ہوگئے جو ارکانِ پارلیمنٹ کو جنتر منتر لے جانے والی تھی۔
مودی کو نیا سیاسی چیلنج
بس میں موجود ارکان نے کھڑکیوں پر پوسٹر لگا رکھے تھے جن پر درج تھا، ’’نہ ووٹ چوری، نہ جمہوریت چوری‘‘ اور ’’الیکشن کمیشن، بی جے پی کمیشن نہیں‘‘۔ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب اشارہ تھا۔
کانگریس کے سیکڑوں ارکان پولیس اور فسادات سے نمٹنے کے لیے تعینات نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری نفری کے درمیان بس کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ پولیس نے جنتر منتر جانے والی سڑک بھی بند کردی، جس کے باعث بس کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا۔
بعد ازاں گاندھی بس سے باہر آگئے۔ ان کی جماعت کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر ہونے والی ویڈیو میں انہیں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے ہجوم کے درمیان کھڑے دیکھا گیا، جبکہ ان کی بہن پریانکا وڈرا اور دیگر ارکانِ پارلیمنٹ سڑک پر لیٹے ہوئے تھے۔
مناظر میں سکیورٹی اہلکاروں کو گاندھی اور وڈرا کو الگ الگ گاڑیوں میں لے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔
پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے معاملے پر فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ مظاہرے مودی کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے درمیانی عرصے میں ان کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج ہیں۔ یہ پیش رفت چند ماہ بعد سامنے آئی ہے جب ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) کی نوجوان تحریک کی قیادت میں ہونے والے اسی طرح کے مظاہروں کے نتیجے میں امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر ان کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
گیانیش کمار نے ووٹر فہرستوں کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔























Comments