ستمبر میں مہنگائی کم ہونے کی توقع، توانائی کا دباؤ برقرار
- ستمبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح 9.9 فیصد سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، بروکریج ہاؤس
بروکریج ہاؤسز کے مطابق پاکستان میں ستمبر کے دوران صارف قیمتوں کی مہنگائی کی شرح کم ہوکر تقریباً 10 فیصد رہنے کی توقع ہے جو اگست میں 11.15 فیصد تھی، تاہم ایندھن اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کے ساتھ مرکزی بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے لیے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز، اسماعیل اقبال سیکیورٹیز، عباسی اینڈ کمپنی اور گروتھ سیکیورٹیز کے تخمینوں کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح 9.9 فیصد سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ اگست میں یہ 11.15 فیصد اور گزشتہ سال ستمبر میں 5.61 فیصد تھی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اگست 2026 کے دوران صارف قیمتوں کی عمومی مہنگائی بڑھنے کی شرح سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد رہی جو جولائی میں ریکارڈ کی گئی 9.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 10.25 سے 10.3 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ ماہ کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں 6.5 فیصد اضافے کا اندازہ ہے۔
ماہانہ بنیاد پر بجلی کی قیمتوں میں 9.58 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 2.61 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ٹاپ لائن کے مطابق ستمبر 2026 میں بجلی کے چارجز میں اضافے کی بنیادی وجہ اگست 2026 کے 0.7503 روپے فی کلو واٹ آور کے مقابلے میں چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) بڑھ کر 2.0581 روپے فی کلو واٹ آور ہونا جبکہ 0.5194 روپے فی کلو واٹ آور کا مثبت سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) بھی شامل ہونا ہے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 10.5 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جس کی بنیادی وجہ قیمتوں میں اضافے میں توانائی کا زیادہ حصہ ہے جبکہ غذائی اشیا کی قیمتوں کا دباؤ کم ہوا ہے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے کہا کہ ہاؤسنگ شعبے کا مہنگائی میں تقریباً 55 بیسس پوائنٹس حصہ متوقع ہے۔ اس کا تقریباً تمام حصہ بجلی کے چارجز میں 12.6 فیصد اضافے سے آئے گا کیونکہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اثر ختم ہوجائے گا اور زیادہ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ لاگو ہوگی جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ بھی معمولی اضافی اثر ڈالے گا۔ٹرانسپورٹ کا شعبہ مزید 35 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرے گا جہاں موٹر ایندھن کی قیمت میں 7.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہ کے پہلے نصف میں روزانہ قیمتوں میں نظرثانی کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
توقع ہے کہ غذائی اشیا مہنگائی میں تقریباً 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کریں گی جبکہ ماہ کے دوران پیاز کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا اور تازہ سبزیوں کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار رہیں۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے کہا کہ مہینے میں مہنگائی کی مختلف اشیا کا مجموعی امتزاج عمومی شرح سے زیادہ اہم ہے۔ بروکریج ہاؤس نے نشاندہی کی کہ اگست کی مہنگائی میں غذائی اشیا کا حصہ تقریباً نصف تھا جبکہ اب توانائی کا حصہ بڑھ کر ایک چوتھائی سے زیادہ ہونے کی توقع ہے جو اس سے قبل تقریباً چھٹا حصہ تھا۔
بروکریج ہاؤس نے کہا کہ یہ فرق اہم ہے۔ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اس طرح کا اچانک اضافہ عموماً سپلائی معمول پر آنے کے بعد واپس کم ہوجاتا ہے لیکن ایندھن اور بجلی کی بلند قیمتیں برقرار رہنے کا رجحان رکھتی ہیں اور وقت کے ساتھ یہ ٹرانسپورٹ کرایوں، مال برداری کے اخراجات اور بنیادی مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں۔
دریں اثنا عباسی اینڈ کمپنی کے مطابق ستمبر میں قومی صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 10.2 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بروکریج ہاؤس نے کہا کہ غذائی مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے جبکہ گندم کے آٹے، گوشت، چاول، تازہ دودھ، کوکنگ آئل اور ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غذائی اشیا کے اشاریے میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
بروکریج ہاؤس نے موٹر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کے اخراجات میں اضافے کو بھی مہنگائی بڑھنے کی وجوہات میں شامل کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تجدید شدہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹوں کے نتیجے میں مہنگائی بلند سطح پر رہنے کی توقع ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ اخراجات پر نمایاں اضافی دباؤ ڈالنے کا امکان ہے جبکہ بجلی اور ایل پی جی کے چارجز میں اضافے سے ہاؤسنگ کے اشاریے میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
گروتھ سیکیورٹیز نے چاروں بروکریج ہاؤسز میں ستمبر کی مہنگائی کے حوالے سے سب سے کم اندازہ لگایا ہے اور مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.9 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 0.8 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے اثرات میں غذائی اشیا کی کم قیمتوں کے باعث کسی حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق اوسط پٹرول قیمت میں 16.9 فیصد اضافے کے بعد 393.41 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12.3 فیصد اضافے کے بعد 423.47 روپے فی لیٹر ہونے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ اشاریے میں ماہانہ بنیاد پر 0.7 سے 0.75 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
بروکریج ہاؤس نے کہا کہ اگر اوسط ایندھن کی قیمتیں 390 سے 400 روپے فی لیٹر کی سطح پر برقرار رہیں تو مارچ 2027 تک سی پی آئی مہنگائی 9 سے 10 فیصد کی حدود میں رہنے کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2027 کی اوسط مہنگائی 9 سے 9.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔
مہنگائی کے منظرنامے کے باعث اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔
مرکزی بینک نے رواں ماہ اپنی پالیسی شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کو اکتوبر میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں بھی شرح سود برقرار رہنے کی توقع ہے اور بروکریج ہاؤس کے مطابق کیلنڈر سال 2026 کے اختتام سے قبل شرح سود میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔
دوسری جانب گروتھ سیکیورٹیز نے کہا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں تو 26 اکتوبر 2026 کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی شرح سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ہے۔
























Comments