ٹرمپ کا ایران کو مکمل طور پر تنہا کرنے پر زور، انتخابات کے بعد معاہدے کی توقع
- امریکی صدر نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ہم معاہدہ کرلیں گے کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا بے معنی ہوگا۔ وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں میری کارکردگی کیسی رہتی ہے۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کو معاشی طور پر مکمل تنہا کرنے پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا، تاہم کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد معاہدہ طے پا جائے گا۔
ایران اس سے قبل تقریباً سات ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی بحالی کے امکان کا عندیہ دے چکا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے صدور اقوام متحدہ کے اجلاس کے لیے نیویارک میں موجود تھے۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا تہران کے مطالبات پورے کرتے ہوئے فوجی دباؤ کم کردے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کردے تو ایران سات روز کے اندر خلیجی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ تہران نے گزشتہ ہفتے ثالثوں کے ذریعے اپنی تازہ ترین تجویز واشنگٹن تک پہنچا دی تھی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے این بی سی کے پروگرام ’’ٹوڈے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے تیار ہے، ’’خصوصاً اگر اس کے نتیجے میں کسی مثبت پیش رفت کی امید ہو اور بالآخر اس مقصد کا حصول ممکن ہو جس کے لیے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔‘‘
تاہم اقوام متحدہ میں ایک جارحانہ خطاب کے دوران ٹرمپ نے کسی قسم کی مفاہمت پر آمادگی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا، ’’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایران کو مکمل معاشی طور پر تنہا کرنے کے اقدامات پر عمل درآمد میں مدد کریں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ہم معاہدہ کرلیں گے کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا بے معنی ہوگا۔ وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں میری کارکردگی کیسی رہتی ہے۔‘‘
ایران نے سفارت کاری کی بحالی کو ’’سنہری موقع‘‘ قرار دے دیا
ایران کے اعلیٰ عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکا کو ’’یہ اعلان کرنا چاہیے کہ وہ معاملہ سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے، اسے باضابطہ حیثیت دینی چاہیے اور پھر مذاکرات کے لیے ایک ٹائم لائن پر اتفاق کرنا چاہیے۔‘‘
عہدیدار نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی امریکا کے لیے سفارت کاری کی جانب واپسی کا ایک سنہری موقع ہے۔‘‘
جولائی کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان کسی براہِ راست ملاقات کی اطلاع نہیں ہے۔ جولائی میں جنگ کے خاتمے کے لیے عبوری معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، تاہم اس پر دستخط کے چند ہفتے بعد ہی یہ معاہدہ ناکام ہوگیا۔
ایران کے اب تک کے سخت موقف کی یاد دہانی کراتے ہوئے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو گزشتہ مذاکرات میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں، نے کہا کہ ایران کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ کو سمجھنا چاہیے کہ وہ ایرانی عوام اور اس کی مسلح افواج پر اپنی طاقت مسلط نہیں کرسکتے۔‘‘
ٹرمپ کی منگل کو خلیج کی چھ عرب ریاستوں بحرین، کویت، قطر، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ملاقات متوقع تھی۔
تمام خلیجی ریاستیں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت بحال کرنے کی خواہاں ہیں، کیونکہ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی، تاہم وہ اپنے دیرینہ حریف ایران کو حد سے زیادہ طاقت دینے کے حوالے سے محتاط ہیں۔
عمان کے علاوہ تمام خلیجی ریاستوں میں امریکا کے بڑے فوجی اڈے بھی موجود ہیں، جو جنگ کے دوران ایران کے بارہا حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
ان میں سب سے بڑی سعودی عرب اس ماہ جنگ میں مزید گہرائی تک شامل ہوگیا ہے، کیونکہ ایران کے اتحادی حوثی جنگجو یمن میں پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ حکومت کی افواج کو پسپا کرچکے ہیں اور بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔
منگل کو تیل کی منڈیوں میں کچھ اطمینان دیکھنے میں آیا، جب ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر آپریشن دوبارہ شروع کردیا ہے اور بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے چند گھنٹوں کے اندر برآمدات بحال کرسکتا ہے، تاہم مقدار معمول سے کم ہوگی۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں جنگی رکاوٹوں سے بچتے ہوئے تیل برآمد کرنے کا مرکزی متبادل راستہ ہے۔ رواں ماہ ریاض کی جانب سے عراق میں ایران کے اتحادیوں پر حملوں کا الزام عائد کیے جانے کے بعد یہ پائپ لائن بند کردی گئی تھی۔
سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف امریکی حمایت مانگ لی
حوثیوں نے بحیرہ احمر اور اس کے دہانے پر واقع باب المندب آبنائے کے ساتھ سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کو پسپا کردیا ہے اور میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب پر براہِ راست حملے بھی کیے ہیں۔ اب حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحل پر نظر رکھنے والے تزویراتی اہمیت کے حامل کہبوب پہاڑوں پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی کر رہے ہیں۔
امریکا، جس نے گزشتہ سال دو ماہ تک حوثیوں کے خلاف بمباری کی تھی، نے اب تک سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دوبارہ جنگ میں شامل ہونے کی بارہا اپیلیں مسترد کردی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اتوار کو آخری وقت میں حوثیوں کے خلاف امریکی حملے منسوخ کردیے، جبکہ اس وقت تک فوجی اہلکار طیاروں میں بم لادنا شروع کرچکے تھے۔
جب روبیو سے پوچھا گیا کہ واشنگٹن نے حوثیوں کے خلاف حملے سے گریز کیوں کیا تو انہوں نے کہا، ’’بالآخر، اگر معاملہ یہاں تک پہنچتا ہے تو امریکا ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اس کی حمایت کرے گا، کیونکہ ہمارا ان کے ساتھ ایسا کرنے کا معاہدہ ہے۔
’’تاہم، یہ ایک انتہائی خطرناک اور پیچیدہ تنازع ہے جو اس سے پہلے سے جاری ہے۔۔۔ حوثیوں کے ساتھ بھی ہماری ایک تاریخ ہے اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اس پر کوئی اثر پڑے۔‘‘
علاقائی ذرائع کے مطابق خلیجی ریاستوں کے رہنماؤں اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں قطر کی جانب سے پیش کردہ ایک ایسے فریم ورک کی تجویز بھی زیرِ بحث ہوگی جس کا مقصد ایران اور عرب خلیجی ریاستوں کو مشترکہ سکیورٹی نظام میں شامل کرنا ہے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اتوار کو نیویارک میں قطر اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی بھی انتظام کے تحت خلیجی ریاستوں کو سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنا اور ایران کے ساتھ معاشی باہمی انحصار کو وسعت دینا ضروری ہوگا۔
شیخ محمد نے کہا، ’’دیرپا سکیورٹی بار بار کشیدگی اور جوابی کارروائی کے چکروں یا ایسے انتظامات کے ذریعے قائم نہیں کی جاسکتی جن کے نتیجے میں کوئی بھی ریاست مستقل طور پر عدم تحفظ سے دوچار رہے۔‘‘























Comments