وزارت خزانہ نے اضافی فنڈز کی فراہمی کا طریقہ کار سخت کردیا
- نئی ہدایات کے تحت مجاز افسران اپنے تفویض کردہ مالی اختیارات کے اندر فنڈز کی دوبارہ تخصیص کرسکیں گے
وزارت خزانہ نے فنڈز کی دوبارہ تخصیص اور اضافی رقوم کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سخت کرتے ہوئے ضمنی گرانٹس کی درخواستوں کو محدود کردیا ہے اور 31 مئی کی آخری تاریخ میں نرمی کی اجازت صرف غیر معمولی صورتوں میں دینے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں جون میں ہونے والی ناگزیر ادائیگیاں اور تنخواہوں سے متعلق فنڈز کی کمی شامل ہے۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ سرکلر میں بجٹ ونگ نے تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، محکموں، اداروں اور ماتحت دفاتر کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ رواں اور آئندہ مالی سالوں کے دوران فنڈز کی دوبارہ تخصیص، ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس اور سپلیمنٹری گرانٹس سے متعلق نظرثانی شدہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کیا جائے۔
وزارت خزانہ نے آئین کے آرٹیکل 84 اور پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعہ 10 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مخصوص سروس کے لیے منظور شدہ فنڈز ناکافی ثابت ہوں یا ایسی نئی سروس کے لیے اخراجات درکار ہوں جو سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ اور منظور شدہ اخراجات کے شیڈول میں شامل نہ ہو تو مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔
نئی ہدایات کے تحت مجاز افسران اپنے تفویض کردہ مالی اختیارات کے اندر فنڈز کی دوبارہ تخصیص کرسکیں گے، تاہم جاری نہ کیے گئے بجٹ سے فنڈز کی دوبارہ تخصیص کی اجازت نہیں ہوگی۔
وزارت خزانہ نے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 کی ادائیگی کے لیے ہر ڈیمانڈ فار گرانٹس اینڈ اپروپری ایشنز میں علیحدہ کاسٹ سینٹرز کے تحت اضافی فنڈز بھی فراہم کیے ہیں۔ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اخراجات ونگ سے مشاورت کے بعد موجودہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں صرف الاؤنس کی ادائیگی کے لیے ان فنڈز کی دوبارہ تخصیص کی جائے۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ ایمپلائز ریلیٹڈ ایکسپینڈیچر کے فنڈز میں کمی کی صورت میں ترجیحی بنیادوں پر نان ایمپلائز ریلیٹڈ ایکسپینڈیچر کے مدات سے فنڈز کی دوبارہ تخصیص کی جاسکتی ہے۔
وزارت نے مزید واضح کیا کہ دوبارہ تخصیص کے بعد بھی جاری کیے گئے فنڈز، فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی کے تحت مقررہ سہ ماہی حدود کے اندر رہنے چاہئیں۔
سرکلر میں کہا گیا کہ ہر سال جون میں 31 مئی کی آخری تاریخ میں نرمی کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ آئندہ ایسی درخواستوں پر صرف اسی صورت میں غور کیا جائے گا جب مجاز اتھارٹی پہلے ہی احکامات کی منظوری دے چکی ہو اور معاملہ مقررہ زمروں میں شامل ہو۔
ان میں اکاؤنٹس دفاتر کی جانب سے درج کیے گئے اضافی اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ، ایمپلائز ریلیٹڈ ایکسپینڈیچر کے مدات میں کمی پوری کرنا اور جون میں واجب الادا ناگزیر ادائیگیاں شامل ہیں۔
وزارت خزانہ نے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کا عمل بھی سخت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسی درخواستیں صرف پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران جمع کرائیں گے، جن میں دیگر ڈیمانڈز سے وسائل کی نشاندہی اور متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کی جانب سے مساوی رقم سرنڈر کرنے کی تصدیق شامل ہوگی۔
اخراجات ونگ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کے معاملات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بجٹ ونگ کو بھیجے گا۔ بجٹ ونگ ایس اے پی سے تیار کردہ بجٹ ایگزیکیوشن رپورٹس، اخراجات ونگ کی سفارشات اور دستیاب مالی گنجائش کی بنیاد پر ہر معاملے کا جائزہ لے کر اسے سیکریٹری خزانہ کے سامنے پیش کرے گا۔
پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام سے متعلق ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی تجاویز مقررہ تقاضے پورے کرنے کے بعد وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ذریعے نمٹائی جائیں گی۔
سرکلر میں کہا گیا کہ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کے ذریعے منظور شدہ فنڈز کا اجرا دستیاب رقوم اور قابل اطلاق فنڈز اجرا کی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
سپلیمنٹری گرانٹس کے حوالے سے وزارت خزانہ نے مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ سطح سے زائد اضافی غیر بجٹ اخراجات کے لیے کوئی گرانٹ زیر غور نہیں لائی جائے گی، سوائے شدید قدرتی آفات کی صورت میں۔
جہاں دوبارہ تخصیص یا ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے فنڈز کا انتظام ممکن نہ ہو، متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کو معتبر جواز اور ٹھوس وجوہات فراہم کرنا ہوں گی، جن کے ساتھ اخراجات ونگ یا وزارت خزانہ کے متعلقہ ونگ کی سفارش بھی ضروری ہوگی۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کے لیے مقررہ تمام طریقہ کار سپلیمنٹری گرانٹس پر بھی لاگو ہوں گے۔
یہ ہدایات رواں اور آئندہ مالی سالوں کے لیے نافذ کردی گئی ہیں اور تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، محکموں، اداروں، ماتحت دفاتر اور اکاؤنٹنگ تنظیموں و دفاتر پر لاگو ہوں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments