امریکی فوجیوں پر جان لیوا حملے سے قبل ایران نے چینی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کیں، رپورٹ
- 17 جولائی کو ایران نے اردن کے موفق سَلتی ایئر بیس پر میزائل حملے کیے، جہاں امریکی فوجی تعینات تھے
چینی اداروں نے اردن میں ایک فوجی اڈے کی حملے سے قبل اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کی تھیں، جس حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعے سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
17 جولائی کو ایران نے اردن کے موفق سَلتی ایئر بیس پر میزائل حملے کیے، جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ حملے میں امریکی فوج کے 3 اہلکار ہلاک ہوئے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جن امریکی عہدیداروں کا حوالہ دیا گیا، انہوں نے چینی اداروں کے نام نہیں بتائے اور نہ ہی یہ تاثر دیا کہ بیجنگ براہِ راست اس واقعے کا ذمہ دار ہے۔
تاہم امریکی عہدیداروں نے یہ معاملہ اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا ہے اور امکان ہے کہ 24 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے وائٹ ہاؤس میں استقبال کے موقع پر بھی یہ معاملہ زیرِ بحث آئے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کی شب رپورٹ کیا کہ امریکی عہدیداروں کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر چینی حکام نے سیٹلائٹ تصاویر کی منتقلی کے ثبوت طلب کیے اور اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ چینی کمپنیوں نے تہران کو سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں۔
ٹرمپ نے بیجنگ کو ایران کو ہتھیار فروخت نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے، جبکہ مئی میں واشنگٹن نے ایران کی فوجی کارروائیوں میں معاونت کرنے پر چین میں قائم تین سیٹلائٹ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔
چین ایران کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، جو ایران کی تیل کی پیداوار کا بڑا حصہ خریدتا ہے، جبکہ وہ ایران کا اہم سفارتی حمایتی بھی ہے۔
























Comments