نریندر مودی اور شی جن پنگ نے سرحدی تنازع حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، بھارت کا دعویٰ
- دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازع کے منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل کے عزم کا اظہار کیا، بھارتی وزارتِ خارجہ
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے درمیان متنازع سرحدی تنازع حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ہفتے کو یہ بات کہی ہے۔
نئی دہلی میں 11 رکنی برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے شی جن پنگ کا دورہ اس لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے کہ 2019 کے بعد یہ ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہے اور جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں حریف ممالک کے درمیان محتاط انداز میں تعلقات کی بحالی کی جانب اب تک کا سب سے بڑا قدم ہے۔
نئی دہلی سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں مودی سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا، ’’اگرچہ ہمارے دونوں ممالک کئی حوالوں سے مختلف ہیں، تاہم وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور خوبیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے، ایک دوسرے کا ساتھ دینے، باہمی کامیابیاں حاصل کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
بھارتی وزارتِ خارجہ نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’’دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازع کے منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل کے عزم کا اظہار کیا۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ مودی نے ’’دونوں فریقوں کی جانب سے سرحد سے متعلق معاملات پر موجودہ معاہدوں اور باہمی مفاہمتوں کی پاسداری‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔
چینی صدر متنازع سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ایک ہلاکت خیز جھڑپ کے چھ سال بعد بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے، جس کا اظہار پروازوں کی بحالی، ویزوں کے اجرا اور اعلیٰ سطح کے رابطوں کی بحالی کی صورت میں ہوا ہے۔
تاہم بنیادی علاقائی تنازع اب بھی حل طلب ہے اور دونوں ممالک تبت کے ساتھ اپنی تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل بلند پہاڑی سرحد پر بھاری فوجی تعیناتی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
جمعہ کو نئی دہلی میں درجنوں تبتی باشندوں نے شی جن پنگ کے دورے کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ وہ جلاوطن تبتی ہیں جو اپنے بدھ روحانی پیشوا دلائی لامہ کی طرح بھارت میں مقیم ہیں۔ دلائی لامہ بھی 1959 میں چین کی جانب سے کریک ڈاؤن کے بعد بھارت فرار ہوگئے تھے۔ مظاہرین نے شی جن پنگ کے دورے کے خلاف نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
وزارت نے کہا کہ مودی نے ’’اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریقوں کو باہمی احترام، باہمی حساسیت اور باہمی مفاد کے تین اصولوں کی رہنمائی میں آگے بڑھنا چاہیے۔‘‘
ملاقات میں تجارت بھی اہم موضوع رہی۔
بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق چین اب بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور مالی سال 2025-26 میں دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی باہمی تجارت 151 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
شی جن پنگ نے کہا، ’’دونوں فریقوں کو… اعلیٰ معیار کے بڑے پیمانے پر مالی تعاون کے فروغ، مساوی اور پائیدار عالمی نظام کی حمایت اور کھلی و جامع اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘
تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بیجنگ کو واضح برتری حاصل ہے۔ بھارت نے چین سے 131 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کیں، جبکہ اس کی برآمدات 19 ارب ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں بھارت کو ریکارڈ 112 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’’ایک دوسرے کے خدشات، بشمول تجارتی عدم توازن کے ساختی مسائل اور سپلائی چین سے متعلق امور، دور کرنے اور بامعنی اور قابلِ پیش گوئی مارکیٹ رسائی میں سہولت پیدا کرنے‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔























Comments