پانی کو کبھی بطور ہتھیار استعمال نہیں ہونا چاہیے، افغانستان سے دہشت گرد حملے بند ہونا چاہئیں، وزیراعظم شہباز شریف
- وزیراعظم نے کہا: ’’پانی ہمارے خطے کی زندگی کی علامت ہے، جو کروڑوں انسانوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے‘‘
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پانی کو خطے کی ’’زندگی کی علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا ذریعہ ہے، اس لیے اسے کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال یا سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے ایس سی او پلس فارمیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’پانی ہمارے خطے کی زندگی کی علامت ہے، جو کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا، ہماری زمینوں کو سیراب کرتا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ اسے کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال یا سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے باقاعدہ پابند وعدے ہیں، جن کی شرائط اور روح دونوں کے مطابق بلاشرط پاسداری کی جانی چاہیے۔‘‘
وزیراعظم کا یہ بیان مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے گزشتہ روز دیے گئے فیصلے کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور بھارت کو کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبوں کی تعمیر محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔
’’دی یو این از اے کی ایلیمنٹ آف دی جسٹ ورلڈ آرڈر: دی کنٹری بیوشن آف دی ایس سی او پلس اسٹیٹس ٹو دی فارمیشن آف اے ملٹی پولر ورلڈ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان گزشتہ دو برس کے دوران عالمی سطح پر قیامِ امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
اجلاس کی صدارت کرغزستان کے صدر صادیر ژاپاروف نے کی، کیونکہ کرغزستان 2025 سے 2026 تک شنگھائی تعاون تنظیم کی گردشی صدارت سنبھالے ہوئے ہے۔
وزیراعظم نے کہا، ’’ہماری مخلصانہ امن کوششیں بالآخر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی صورت میں کامیاب ہوئیں۔ یہ خلیجی خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سب سے قابلِ عمل اور پائیدار راستہ فراہم کرتی ہے اور تمام فریقوں کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے حصول کے لیے ایک وسیع پیمانے پر قابلِ قبول بنیاد فراہم کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی فریق ہے، جس نے اتحاد اور مشترکہ عزم کا پیغام دے کر خطے میں امن کے امکانات کو مزید مضبوط کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 80 برس قبل قائم ہونے والی اقوام متحدہ نے غربت، بھوک، بیماری، ماحولیات اور ہمارے عہد کے کئی دیگر مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اجتماعی طریقۂ کار اپنایا، جبکہ پاکستان بھی اقوام متحدہ کے منشور سے مکمل طور پر وابستہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا ایک زیادہ مساوی، جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا، ’’لیکن آج اقوام متحدہ کو فوری طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اسے مزید جواب دہ اور مؤثر بننا ہوگا۔‘‘
غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال کو ’’انتہائی تشویش ناک‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بے گناہ فلسطینی عوام کی تکالیف ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کا تحفظ یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا، ’’یہی حقوق دیگر تمام مظلوم قوموں کو بھی دیے جانے چاہئیں۔‘‘
دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے (راٹس) کے تحت ’’دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہاپسندی‘‘ کی تین برائیوں سے نمٹنے کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان دہشت گردی کی لعنت کا بہادری سے مقابلہ اور اسے شکست دیتا رہے گا۔ 90 ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع اور 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کے باوجود ہماری قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔‘‘
وزیراعظم نے ریاستی دہشت گردی سمیت ہر قسم اور ہر شکل کی دہشت گردی کی مذمت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی روابط کا تصور اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب افغانستان میں امن و استحکام ہو۔ انہوں نے پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک میں حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کے بعد ملک اس عزم کے ساتھ آگے بڑھے گا کہ تنظیم اپنے عوام کے لیے ٹھوس فوائد یقینی بنائے۔
وزیراعظم نے کہا، ’’اگلے ایک سال کے دوران ہم آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت میں کمی، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں کو ترجیح دیں گے۔‘‘
انہوں نے ایس سی او کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایس سی او کے رکن ممالک اور ایس سی او پلس خاندان سے تعاون طلب کیا۔
وزیراعظم نے اجلاس میں شریک رہنماؤں کو 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے اس فارمیٹ کے اگلے اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی، کیونکہ پاکستان 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال رہا ہے۔
























Comments