میر رضا نے خودکشی نہیں کی، قتل کیا گیا ہے، تحقیقاتی ٹیم کا عدالت میں بیان
- تحقیقات ازسرِنو شروع کردیں، مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، انویسٹی گیشن ٹیم
نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا، یہ خودکشی کا واقعہ نہیں تھا۔ تفتیشی افسر نے پیر کو کراچی کی عدالت کو بتایا کہ ٹیم اس نتیجے پر واضح طور پر پہنچ چکی ہے۔ یہ رپورٹ آج نیوز نے دی۔
تفتیشی افسر سراج لاشاری نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم واقعے کو قتل قرار دینے پر واضح ہے۔
جج کی جانب سے واقعے سے متعلق تفتیش کاروں کی رائے دریافت کیے جانے پر سراج لاشاری نے کہا کہ ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میر رضا کو قتل کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ٹیم نے تحقیقات ازسرِنو شروع کی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک حاصل کیے گئے زیادہ تر شواہد ڈیجیٹل ہیں، جن کا تجزیہ تحقیقات کا اہم حصہ ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جائے وقوعہ سے ایک خالی کارتوس ملا ہے، تاہم مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونے والا پستول تاحال برآمد نہیں ہوسکا۔
سراج لاشاری نے کہا کہ اسلحے سے متعلق شواہد بھی تحقیقات میں اہم ہیں اور اس حوالے سے مزید کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حتمی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس ابھی موصول نہیں ہوئیں۔ ان رپورٹس کے آنے کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ تحقیقاتی ٹیم وکیل جبران ناصر کے بجائے اپنے فرائض کے سامنے جواب دہ ہے اور یقین دلایا کہ تحقیقات دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک دستیاب شواہد کی بنیاد پر ٹیم نے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا ہے اور میر رضا کی موت کو قتل قرار دیا ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس تاحال زیرِ انتظار ہیں، جو موت کی وجہ اور حالات سے متعلق مزید وضاحت فراہم کرسکتی ہیں۔
وکیل کا مضبوط عدالتی کمیشن کا مطالبہ
دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران میر رضا کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ خاندان کو عدالتی کمیشن کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ کمیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔
ہائی کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ خاندان عدالتی کمیشن کی حمایت کرتا ہے، تاہم جامع اور مؤثر تحقیقات یقینی بنانے کے لیے اس میں مزید شرائطِ کار (ٹی او آرز ) شامل کی جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری وکیل نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی کمیشن کا کام تحقیقات کرنا نہیں ہے۔
جبران ناصر نے خاندان کی درخواست کی سماعت کرنے پر عدالت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عدالت ان کی درخواست منظور کرنے کی پابند نہیں تھی، تاہم اس کے باوجود ایک ہفتے کے اندر معاملے کو تفصیل سے سنا گیا۔
تفتیشی افسر کے عدالت میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ سراج لاشاری نے واضح طور پر واقعے کو قتل قرار دیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تفتیشی افسر نے سابقہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔
جبران ناصر نے مزید بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے لیے سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس کو خط لکھنے کی تجویز دی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ سندھ حکومت صوبائی پولیس سربراہ کو خط لکھ کر مجوزہ جے آئی ٹی میں وفاقی اداروں کو شامل کرنے کی درخواست کیسے کرسکتی ہے۔
























Comments