BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.91 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.78 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.03 Decreased By ▼ -0.53 (-2.71%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.38 Decreased By ▼ -1.78 (-1.91%)
OGDC 314.19 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.11 Decreased By ▼ -4.80 (-2.12%)
PRL 90.90 Decreased By ▼ -2.12 (-2.28%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
دنیا

ایران کا نئی امریکی پابندیوں کا ساتھ نہ دینے پر زور، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ثالثی تیز

  • ثالثی کی کوششوں کے باوجود ایران کا امریکی دباؤ مسترد، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات پر زور
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے جمعے کو امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کو ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک بین الاقوامی قانون کے تحت ان پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کرنے کے پابند ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ثالثوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی تھی، جبکہ اس کی موجودہ صورتحال امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کو ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ نے اس اقدام کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا تھا، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے فوری طور پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔

ٹرمپ نے جمعرات کو ایک بار پھر کہا کہ امریکا ایران سے مذاکرات نہیں کر رہا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ واشنگٹن کی اقتصادی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تہران ’’بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر آنے‘‘ کا فیصلہ نہیں کرتا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔ وزارت نے کہا کہ ان پابندیوں میں شرکت کا مطلب ایک خودمختار ریاست پر دوسری ریاست کی غیر قانونی مرضی مسلط کرنے میں معاونت کرنا ہوگا۔

ایران نے امریکا کے نئے اقدامات کو ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے لاکھوں شہریوں کی صحت اور روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ تہران نے دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں پر زور دیا کہ وہ قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

’’دباؤ کارگر نہیں‘‘، ایران کا امریکا کو پیغام

امریکا جہاں اپنی اقتصادی دباؤ کی مہم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں دیگر ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جنگ سے قبل موجود آزادانہ بحری آمدورفت کی صورتحال بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو آل ثانی کے ساتھ مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکا سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ ختم کرے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔

عراقچی نے ایکس پر کہا، ’’سفارت کاری کو دوبارہ درست سمت پر لانا ناممکن نہیں۔ اس کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ امریکا ایک سادہ حقیقت کو سمجھ لے: دباؤ کارگر نہیں۔‘‘

امریکا کے اتحادی قطر اور پاکستان نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت طے کرانے میں مدد کی تھی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم آبنائے ہرمز پر ایران اور امریکا کے اختلافات کے باعث یہ جنگ بندی جلد ہی ناکام ہوگئی۔

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران شرائط کی فہرست تیار کر رہا ہے

چھ ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد ایران نے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آبنائے سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے مذاکرات میں تہران کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔

امریکا کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آمدورفت کے لیے کھلی بحری گزرگاہ رہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے جمعرات کو کہا کہ ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی ایک فہرست تیار کر رہا ہے۔

المنار ٹی وی کو مترجم کے ذریعے دیے گئے انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک بحری راہداری پر اتفاق کیا ہے، جس کا کچھ حصہ عمانی اور کچھ ایرانی پانیوں میں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر امریکا ایران کی شرائط پوری کرتا ہے تو بحری جہاز اس مقصد کے لیے مخصوص مرکزی راستہ استعمال کرسکیں گے۔

ماضی میں ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، معاوضے کی ادائیگی اور پابندیوں کا خاتمہ شامل رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران ان مطالبات میں ایسی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جنہیں واشنگٹن کے لیے قابل قبول بنایا جاسکے۔

سمندری بارودی سرنگیں صاف

امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز سے سمندری بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں، جو کئی ماہ قبل ایران کی پاسداران انقلاب نے بچھائی تھیں۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’’خلاصہ یہ ہے کہ آج بین الاقوامی بحری راستے کھلے ہیں اور پیش رفت کی رفتار بڑھ رہی ہے۔‘‘

کوپر کے مطابق امریکی افواج نے حالیہ مہینوں کے دوران تقریباً 1,500 تجارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد فراہم کی ہے، جن پر تقریباً 75 کروڑ بیرل خام تیل لدا ہوا تھا۔

ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم بہت سے بحری جہازوں نے ایرانی دھمکیوں کے باعث اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی سروسز کے مطابق آبنائے میں آمدورفت معمول کی سطح کے محض 5 سے 15 فیصد تک رہ گئی ہے۔

جمعے کو جاری کیے گئے ابتدائی بحری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف 7 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ 10 روز کی اوسط 15 جہاز یومیہ رہی۔

تاہم خلیجی ممالک کے توانائی برآمد کنندگان بھی آبنائے ہرمز پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے توانائی کی پائپ لائنوں سے لے کر بندرگاہوں تک نئے بنیادی ڈھانچے پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

تجارتی سرگرمیوں کا رخ بحیرۂ احمر پر واقع سعودی بندرگاہوں اور متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل کی بندرگاہوں کی جانب موڑا جا رہا ہے، تاہم ان کی گنجائش آبنائے ہرمز کے مقابلے میں کم ہے۔

تیل کی قیمتیں جمعے کو مستحکم رہیں تاہم ہفتہ وار بنیاد پر کمی کی جانب گامزن رہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ یہ اشارے ہیں کہ سفارتی تعطل کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہورہا ہے اور خلیجی خطے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی بدلتے حالات کے مطابق تیزی سے اپنی حکمت عملی ڈھال رہے ہیں۔

Comments

200 حروف