کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے وسیع تر پاور سیکٹر اصلاحات کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پہلے مرحلے کی تنظیمِ نو کے منصوبے کی منظوری دے دی، جس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) شامل ہیں۔
نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں منظور کیے گئے منصوبے کا مقصد ان تقسیم کار کمپنیوں کو مالی طور پر مستحکم، پیشہ ورانہ بنیادوں پر منظم، ڈیجیٹل نظام سے آراستہ اور صارفین پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے والا بنانا ہے۔
منصوبے کے تحت بعض منتخب اثاثے، جن میں اراضی کے قطعات بھی شامل ہیں، اور بعض واجبات، جن میں پہلے ہی ریٹائر ہوچکے ملازمین کے بعد از ریٹائرمنٹ فوائد اور متعلقہ فنڈز شامل ہیں، حکومت کی ملکیت والے خصوصی مقصدی ادارے (ایس پی وی) کو منتقل کیے جائیں گے۔ موجودہ ملازمین کے ریٹائرمنٹ فوائد متعلقہ ڈسکوز ہی کے پاس رہیں گے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق بین الحکومتی واجبات اور ادائیگیوں کو باہم ایڈجسٹ کرکے حکومتی واجبات کا تصفیہ بھی کیا جائے گا۔
کمیشن نے کہا کہ تنظیمِ نو کا منصوبہ مالیاتی طور پر غیرجانبدار ہے اور اس کا مقصد حکومت کے لیے قدر میں اضافہ کرتے ہوئے مستقبل کے لین دین کو قابلِ عمل بنانا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کے ریگولیٹری نظام کے تحت صارفین کے مفادات کا تحفظ برقرار رہے گا، جبکہ بجلی کے نرخ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مقررہ طریقہ کار کے تحت طے اور حکومت کی جانب سے نافذ کیے جاتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی عمل کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے قابلِ اعتماد نظام، کارکردگی اور صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات میں قابلِ پیمائش بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔
فیسکو، گیپکو اور آئیسکو بڑے صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں، اس لیے ان کی کارکردگی میں بہتری بجلی کی خدمات مضبوط بنانے اور ملکی اقتصادی مسابقت کو فروغ دینے کی کوششوں میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔
حکومت نے کہا کہ اصلاحاتی عمل کے دوران بجلی کی فراہمی کا تسلسل ترجیح رہے گا، جبکہ ملازمین کے مفادات کا تحفظ متعلقہ قوانین اور لین دین سے متعلق انتظامات کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔
منصوبے کی منظوری حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور پاور سیکٹر کے دیرینہ ساختی مسائل سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
























Comments