ورلڈ بینک نے سندھ بیراجز منصوبے کی ریٹنگز کم کردیں
- 314.93 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے کا مقصد سندھ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی بیراجوں کو چلانے اور ان کا انتظام کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے
ورلڈ بینک نے پاکستان کے سندھ بیراجز امپروومنٹ پروجیکٹ کی عملدرآمد اور ترقیاتی ریٹنگز کم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیراج آپریشنز اور ادارہ جاتی صلاحیت میں سست پیش رفت بڑے بحالی منصوبوں میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کے طویل مدتی پائیدار نتائج کو متاثر کرسکتی ہے، اگرچہ سول ورکس میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
ورلڈ بینک کی دستاویزات کے مطابق منصوبے کے ترقیاتی مقاصد کے حصول کی مجموعی پیش رفت اور عملدرآمد کی پیش رفت، دونوں کی ریٹنگ سیٹسفیکٹری سے کم کرکے ماڈریٹلی سیٹسفیکٹری کردی گئی ہے، جبکہ مجموعی خطرے کی ریٹنگ سب اسٹینشل برقرار رکھی گئی ہے۔
314.93 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے کا مقصد سندھ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی بیراجوں کو چلانے اور ان کا انتظام کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا، جبکہ گڈو اور سکھر بیراجوں کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت اب تک تقریباً 82.25 فیصد فنڈز جاری کیے جاچکے ہیں۔
بینک نے کہا کہ گڈو اور سکھر بیراجوں پر بڑے بحالی کام اچھی رفتار سے جاری ہیں اور مارچ 2026 میں سکھر بیراج پر کوفر ڈیم میں شگاف پڑنے سمیت مختلف چیلنجز کے باوجود انہیں 2027 کی پہلی ششماہی میں مکمل کرنے کا ہدف برقرار ہے۔
تاہم ورلڈ بینک نے خبردار کیا کہ بیراج آپریشنز اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے میں پیش رفت توقعات سے کم ہے، جس کے لیے منصوبے کے ترقیاتی مقاصد مکمل طور پر حاصل کرنے کی خاطر عملدرآمد تیز کرنا ہوگا۔
بینک کے مطابق بیراج انفراسٹرکچر کی بحالی اور مضبوطی میں شاندار پیش رفت ہوئی ہے، جس میں سکھر بیراج کے تمام مین گیٹس کی تبدیلی مکمل ہونا اور گڈو بیراج پر نمایاں پیش رفت شامل ہے۔ تاہم ادارہ جاتی اصلاحات میں سست روی سرمایہ کاری کے طویل مدتی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق جولائی 2026 تک دونوں بیراجوں کی بحالی اور جدید کاری کے کام 84 فیصد مکمل ہوچکے تھے، جبکہ جون 2028 تک 100 فیصد تکمیل کا ہدف مقرر ہے۔ مجموعی طور پر 125 گیٹس تبدیل کیے جاچکے ہیں، جن میں گڈو کینال کے 25 گیٹس، گڈو بیراج کے 56 مین گیٹس اور سکھر بیراج کے 44 مین گیٹس شامل ہیں۔
منصوبے کا مقصد سکھر اور گڈو بیراجوں کی سیلابی پانی گزارنے کی صلاحیت 900,000 کیوسک سے بڑھا کر 1.2 ملین کیوسک کرنا ہے، تاہم بحالی کام مکمل ہونے تک موجودہ صلاحیت 900,000 کیوسک کی بنیادی سطح پر برقرار ہے۔
ورلڈ بینک نے آپریشن اور مینٹیننس پرفارمنس اسکور کارڈ پر بھی کمزور پیش رفت کی نشاندہی کی۔ اوسط اسکور دسمبر 2025 کے 40 سے معمولی اضافے کے بعد جولائی 2026 میں صرف 44 تک پہنچا، جبکہ جون 2028 تک ہدف 90 مقرر ہے۔ بینک نے خصوصاً سیڈمنٹ ٹیسٹنگ کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر میں محدود پیش رفت کی نشاندہی کی۔
کینال ہیڈ ریگولیٹرز کی کیلیبریشن دوبارہ شروع کردی گئی ہے، تاہم اس میں بھی پیش رفت سست ہے۔ بیراج مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے اب تک کوئی پرفارمنس بیسڈ مینٹیننس کنٹریکٹ بھی نہیں دیا گیا۔
بینک نے بتایا کہ سکھر بیراج پر طویل مدتی سیلاب اور سیڈمنٹ مینجمنٹ کے لیے تکنیکی مطالعات مکمل ہوچکے ہیں، تاہم انہیں عملی شکل دینا باقی ہے۔ کوٹری بیراج امپروومنٹ اسٹڈی ابھی پروکیورمنٹ مرحلے میں ہے، جبکہ نئے سکھر بیراج کے ممکنہ مقام کا ابتدائی جائزہ مکمل ہوچکا ہے۔
منصوبے کے تحت بیراج مینجمنٹ یونٹ قائم کیا گیا ہے، تاہم ورلڈ بینک نے اس کی مزید مضبوطی اور سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی پر زور دیا ہے۔ تینوں بیراجوں کے لیے ایمرجنسی پری پیئرڈنس پلانز بھی تیار، جائزہ اور نظرثانی کیے جاچکے ہیں، تاہم انہیں بیراج اور مقامی حکام تک مؤثر انداز میں پہنچانا ضروری ہے۔
بحالی کام مکمل ہونے اور بیراج مینجمنٹ و ایمرجنسی پری پیئرڈنس بہتر ہونے کے بعد اس منصوبے سے تقریباً 50 لاکھ افراد کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے انفراسٹرکچر کے ذریعے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ منصوبے کی نظرثانی شدہ تکمیل کی تاریخ 30 جون 2028 مقرر کی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments