کارکردگی کا جائزہ کاروباری آسانیاں پیدا کرنے کی اصلاحات کے تناظر میں لیا جائے، وزیراعظم کی ہدایت
- شہباز شریف نے کاروبار میں آسانی کے پالیسی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے جامع رپورٹ بھی طلب کرلی
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کے جائزے میں ان کی جانب سے ایز آف ڈوئنگ بزنس (کاروبار میں آسانی) کے اقدامات پر عمل درآمد اور اس کے نتیجے میں روزگار کے پیدا ہونے والے مواقع کو کلیدی اہمیت دی جائے۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں کاروبار میں آسانی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے آج اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور ایزی بزنس ایکٹ 2025 پر عمل درآمد کو تیز کیا جائے۔ کاروبار میں آسانی کے اقدامات کی تاثیر اور ان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن (تیسرے فریق سے توثیق) کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ کاروبار میں آسانی کے پالیسی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ جلد تیار کرکے پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لیے قانون سازی اور پالیسی سازی میں وزارت قانون و انصاف، ایس آئی ایف سی، بورڈ آف انویسٹمنٹ، وزارت تجارت، وزارت صنعت اور تمام متعلقہ اداروں کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔مزید برآں وزیراعظم آفس کا کہنا تھا کہ اجلاس کو اقدامات پر عمل درآمد کے جائزے اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار میں آسانی کے لیے مختلف ضوابط، دفتری کاغذی کارروائی اور منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں سے 71 پالیسی اقدامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے، جبکہ 272 پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ مختلف شعبوں میں ان اقدامات پر 7 مراحل میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے باعث مختلف ضوابط اور شرائط کی مد میں کاروباری برادری کو تقریباً 468.7 ارب روپے کی متوقع بچت ہوگی۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری اور پیچیدہ کاغذی کارروائی اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
























Comments