محمد ندیم خان پی ٹی سی ایل کے نئے چیف ایگزیکٹو مقرر
- ندیم خان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، انہیں پی ٹی سی ایل گروپ کے ساتھ دو دہائیوں سے زائد عرصے کا تجربہ حاصل ہے
پاکستان کی سب سے بڑی ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے 14 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد محمد ندیم خان کو اپنا چیف ایگزیکٹو مقرر کردیا ہے۔
کمپنی نے منگل کو پاکسان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔
رواں ماہ کے آغاز میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پی ٹی سی ایل اور یوفون کے گروپ چیف فنانشل آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ندیم خان کو فوری طور پر 14 روز کی مدت کے لیے پی ٹی سی ایل کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا تھا۔
ندیم خان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور انہیں پی ٹی سی ایل گروپ کے ساتھ دو دہائیوں سے زائد عرصے کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 2003 میں یوفون کے چیف فنانشل آفیسر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی جہاں وہ ایک دہائی تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں انہوں نے مختصر مدت کے لیے یو مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ کے بورڈ میں بھی خدمات انجام دیں۔
انہیں 2017 میں پی ٹی سی ایل گروپ کا گروپ چیف فنانشل آفیسر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے ٹیلی نار پاکستان کے حصول سمیت بڑے تبدیلی کے دور میں گروپ کی مالیاتی حکمتِ عملی کی نگرانی کی۔ وہ اس وقت انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز بورڈ کے رکن بھی ہیں۔
یہ تقرری حاتم باماترف کے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی جنہوں نے گزشتہ 5 برسوں سے پی ٹی سی ایل اور یوفون کے صدر اور سی ای او کے طور پر خدمات انجام دیں اور اب وہ پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کے سی ای او کا عہدہ سنبھالیں گے۔
پی ٹی سی ایل پاکستان میں 31 دسمبر 1995 کو قائم کی گئی اور اس نے یکم جنوری 1996 سے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کمپنی ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی مالک اور آپریٹر ہے جبکہ پاکستان بھر میں مقامی اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروسز سمیت دیگر مواصلاتی سہولیات فراہم کرتی ہے۔
2006 میں پاکستان نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کرتے ہوئے اس کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول متحدہ عرب امارات کی کمپنی اتصالات انٹرنیشنل پاکستان کو 2.6 ارب ڈالر میں فروخت کیے۔ اگرچہ ابتدا میں اس معاہدے کو ایک اہم اصلاحاتی اقدام قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ جائیدادوں کی منتقلی کے تنازع کا شکار ہوگیا جس کے باعث تقریباً 799 ملین ڈالر کی رقم اب بھی اتصالات نے روکی ہوئی ہے۔
جنوری 2026 میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس دیرینہ تنازع کو حل کرنے کے لیے اتصالات کی انتظامیہ سے ملاقات کے غرض سے دبئی کا دورہ کیا۔ پاکستان نے اس حل طلب مسئلے کے فوری تصفیے کی خواہش کا اظہار کیا۔
اپریل 2026 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی پر زور دیا کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو اتصالات سے بقایا جات وصول کرنے کی ہدایت کریں۔























Comments