حالیہ دنوں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے منشیات سے متعلق مقدمات میں فرانزک ماہرین کی رپورٹس کے قابلِ قبول ہونے سے متعلق دیا گیا فیصلہ مؤثر قانون نافذ کرنے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے درمیان توازن کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اکثریتی فیصلے میں چار کے مقابلے میں ایک کی رائے سے قرار دیا گیا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ٹیسٹوں کی صرف نشاندہی کرنا ہی کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز رولز 2001 کے رول 6 کی تعمیل کے لیے کافی ہے۔ تاہم جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اختلافی نوٹ خصوصی توجہ کا مستحق ہے، کیونکہ اس میں انہوں نے قانونی طریقۂ کار کے تحفظات کو کمزور کرنے کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
ان کے مشاہدات پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جہاں جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ان کا یہ خدشہ کہ منشیات سے متعلق قوانین کو اکثر سیاسی مخالفین یا بااثر شخصیات کے ناپسندیدہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس کی اصلاح ناگزیر ہے۔ چونکہ پاکستان کے انسدادِ منشیات قوانین کے تحت سزا کی صورت میں طویل قید، بھاری جرمانے اور عمر بھر کا سماجی داغ لگ سکتا ہے، اس لیے قانونی تحفظات محض رسمی تقاضے نہیں بلکہ انصاف کی ممکنہ پامالی سے بچانے کے لیے بنیادی ضمانت ہیں۔ جیسا کہ جسٹس ملک شہزاد نے نشاندہی کی، اعلیٰ عدالتیں بارہا یہ اصول واضح کر چکی ہیں کہ ”جتنی سخت سزا، اتنا ہی مضبوط معیارِ ثبوت“۔ موجودہ معاملے میں یہ اصول اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ غلط سزا کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
یہ تقاضا کہ سرکاری تجزیہ کار اپنی رپورٹس میں مکمل جانچ کا طریقۂ کار (ٹیسٹنگ پروٹوکولز) فراہم کریں، ایک اہم مقصد رکھتا ہے۔ اس سے عدالتوں، وکلاے صفائی اور آزاد ماہرین کو فرانزک نتائج کی بنیاد بننے والے طریقوں اور مراحل کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ سائنسی شواہد کی ساکھ صرف تجزیہ کار کی اہلیت پر نہیں بلکہ اس پورے عمل کی شفافیت اور تصدیق پذیری پر قائم ہوتی ہے۔ اگر رپورٹ محض کیے گئے ٹیسٹوں کی فہرست تک محدود ہو جائے تو اس کا مؤثر جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف شواہد بلکہ عدالتی کارروائی کی شفافیت پر بھی عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی لیے جسٹس ملک شہزاد کا آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-اے پر انحصار نہایت مؤثر معلوم ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق سلوک کیے جانے کا حق اور منصفانہ ٹرائل کا حق محض نظریاتی اصول نہیں بلکہ ریاستی اختیارات کے من مانی استعمال کے خلاف عملی ضمانتیں ہیں۔ لہٰذا قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد میں درج طریقۂ کار کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ انصاف کو یقینی بنانے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، کیونکہ یہ عوامی صحت اور معاشرتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، مگر مؤثر کارروائی کے نام پر قانونی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اختلافی نوٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف کو غلط سزاؤں کے خطرے سے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔ کسی بھی فوجداری مقدمے کی قانونی و اخلاقی حیثیت صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ مجرم کو سزا ملے، بلکہ اس پر بھی کہ بے گناہ افراد کو ریاستی اختیارات کے غلط استعمال سے محفوظ رکھا جائے۔ ایسے مقدمات میں، جہاں کسی شخص کی آزادی، ساکھ اور مستقبل داؤ پر لگا ہو، شواہد سے متعلق قانونی تحفظات پر سختی سے عمل کرنا نہ صرف اخلاقی تقاضا ہے بلکہ آئینی ذمہ داری بھی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


























Comments