BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.44%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.64 Decreased By ▼ -0.40 (-0.64%)
BIPL 28.47 Increased By ▲ 0.44 (1.57%)
BOP 36.85 Increased By ▲ 0.08 (0.22%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.59 Increased By ▲ 0.66 (3.31%)
DGKC 226.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
FABL 101.56 Increased By ▲ 1.38 (1.38%)
FCCL 58.66 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 26.62 Increased By ▲ 1.42 (5.63%)
HBL 305.91 Increased By ▲ 0.27 (0.09%)
HUBC 233.61 Increased By ▲ 1.06 (0.46%)
HUMNL 11.28 Decreased By ▼ -0.14 (-1.23%)
KEL 8.24 Decreased By ▼ -0.05 (-0.6%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.91 (3.2%)
MLCF 107.17 Decreased By ▼ -1.12 (-1.03%)
OGDC 345.43 Increased By ▲ 6.33 (1.87%)
PAEL 45.39 Increased By ▲ 0.04 (0.09%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.56 Increased By ▲ 0.99 (0.35%)
PPL 248.71 Increased By ▲ 2.76 (1.12%)
PRL 36.29 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
SNGP 118.77 Increased By ▲ 0.07 (0.06%)
SSGC 31.37 Decreased By ▼ -0.30 (-0.95%)
TELE 9.21 Decreased By ▼ -0.06 (-0.65%)
TPLP 11.64 Increased By ▲ 0.41 (3.65%)
TRG 67.62 Decreased By ▼ -0.22 (-0.32%)
UNITY 10.93 Decreased By ▼ -0.08 (-0.73%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

قانونی شعبے پر مصنوعی ذہانت کے اثرات: فوائد اور نقصانات

  • قانونی معاملات میں اخلاقی فیصلے صرف مصنوعی ذہانت پر نہیں چھوڑے جا سکتے
  • انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے انسانی نگرانی، قانونی مہارت اور مضبوط اخلاقی اصول ناگزیر رہیں گے
شائع اپ ڈیٹ

ٹیکنالوجی کے انقلابات عموماً قانونی شعبے پر محدود اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ یہ پیشہ تبدیلی کو قبول کرنے میں نسبتاً مزاحمت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ قانونی شعبہ آج بھی بڑی حد تک اسی انداز میں کام کر رہا ہے جیسے ماضی میں کرتا تھا۔ ٹیکنالوجی قانونی امور، مثلاً مقدمات کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے یا عدالتی فیصلوں کے تجزیے جیسے شعبوں میں اگرچہ معاونت فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے باوجود وکلا اور دیگر قانونی ماہرین کی جگہ لینا آسان نہیں۔ البتہ توقع کی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دے گی۔

مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی ذہانت کو سمجھنے، اس کی نقل کرنے اور اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ معلومات جمع کرنے، انہیں منظم کرنے اور متعلقہ قوانین و ضوابط پر عمل درآمد جیسے کام مؤثر انداز میں انجام دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت قانونی استدلال کے عمل کی بھی نقل کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایک نظریاتی طور پر مضبوط کمپیوٹیشنل ماڈل تشکیل دیتی ہے، جو کسی قانونی مسئلے کے حل کے ساتھ اس کی منطقی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

تاہم جہاں قانون مبہم ہو یا کسی معاملے میں واضح قانونی رہنمائی موجود نہ ہو، وہاں مصنوعی ذہانت کو فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اے آئی عموماً پہلے سے موجود معلومات اور ڈیٹا سے سیکھتی ہے۔ ایسے حالات میں وہ قیاسی (ہیورسٹک) یا احتمالی (پروبیبلسٹک) طریقۂ کار اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں غلط یا غیر واضح نتائج سامنے آنے کا امکان رہتا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایسے اے آئی نظام تیار کیے جائیں جو آزمائش اور غلطی (ٹرائل اینڈ ایرر) کے ذریعے خود ڈیٹا تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طریقۂ کار کو تقویتی تعلم (ری انفورسمنٹ لرننگ) کہا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح اس کے بھی اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، تاہم قانونی شعبے کے لیے اس میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قانونی پیشے نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں کسی نہ کسی حد تک مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے باوجود، چونکہ مصنوعی ذہانت مختلف پیشوں کی نوعیت بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے بالخصوص نوجوان وکلا اس شعبے میں ہونے والی نئی پیش رفت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

لیکسس نیکسس کی 2023 کی سروے رپورٹ کے مطابق، 86 فیصد وکلا چیٹ جی پی ٹی جیسی جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجیز سے واقف ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ قانونی برادری میں اس ٹیکنالوجی نے نمایاں مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ اس کے مقابلے میں عام صارفین میں یہ شرح 57 فیصد ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وکلا میں اس حوالے سے آگاہی نسبتاً زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق عمر کے لحاظ سے بھی واضح فرق پایا جاتا ہے۔ 45 برس یا اس سے کم عمر کے تقریباً 98 فیصد وکلا جنریٹو اے آئی سے آگاہ ہیں، جبکہ 45 برس سے زائد عمر کے وکلا میں یہ شرح 82 فیصد ہے۔ مزید برآں، 92 فیصد قانون کے طلبہ اور 89 فیصد وکلا کا خیال ہے کہ جنریٹو اے آئی کسی نہ کسی صورت قانونی پیشے کو متاثر کرے گی۔ ان میں سے 46 فیصد قانون کے طلبہ اور 39 فیصد وکلا کا ماننا ہے کہ اس کے اثرات نہایت گہرے یا انقلابی نوعیت کے ہوں گے۔ امریکن بار ایسوسی ایشن (اے بی اے) کے قانونی ٹیکنالوجی سروے کے مطابق امریکہ میں اوسطاً 8 فیصد وکلا اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

اسی طرح بلوم برگ لا کے 2019 کے سروے کے مطابق امریکہ میں 54 فیصد وکلا اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن اگست 2023 تک قانونی شعبے میں اے آئی کے استعمال کی شرح بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ گئی۔

قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نمایاں فوائد میں معاہدوں کا تجزیہ، دستاویزات کی جانچ اور دیگر دہرائے جانے والے وقت طلب کاموں کو خودکار بنانا شامل ہے۔ اس سے وکلا اپنا زیادہ وقت پیچیدہ اور زیادہ اہم نوعیت کے قانونی معاملات پر صرف کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، متعدد قانونی فرمیں اور ادارے اے آئی پر مبنی سافٹ ویئر کے ذریعے لاکھوں دستاویزات میں سے مطلوبہ معلومات تیزی سے تلاش کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں دستی طور پر دستاویزات کا جائزہ لینے میں لگنے والا وقت اور محنت نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے، جبکہ وکلا اپنی مہارت زیادہ پیچیدہ مقدمات پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح معاہدوں کے تجزیے میں بھی مصنوعی ذہانت ممکنہ خطرات اور تضادات کی نشاندہی کر کے وکلا کو مذاکرات اور فیصلہ سازی میں مفید معلومات فراہم کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت میں حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو بھی غلط ثابت کیا ہے کہ کمپیوٹر زبان کی باریکیوں اور اعلیٰ درجے کے وکلا کی قانونی مہارت کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ متعدد ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نہ صرف قانونی خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ قانونی تعلیم، انصاف تک رسائی اور اخراجات میں کمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ پیش رفت قانونی شعبے کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں قانونی خدمات کی فراہمی کا طریقۂ کار نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ 2029 تک کمپیوٹر انسانی طرز کی سوچ رکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں مختلف شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکلنے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت کو قانونی شعبے میں وسیع پیمانے پر اپنانے سے پہلے اس سے متعلق خدشات کا ازالہ ضروری ہے۔ مناسب انداز میں استعمال کی جائے تو یہ انصاف کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، عدالتی نظام کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور انصاف تک رسائی کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے فیصلوں میں جوابدہی اور شفافیت سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے ایسے نظام وضع کرنا ضروری ہے جن کے ذریعے اے آئی کے فیصلوں کی مؤثر نگرانی اور جانچ ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے مناسب ضابطوں اور قانونی فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہے۔

اسی طرح قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے جامع اخلاقی اصول اور رہنما خطوط مرتب کرنا بھی ضروری ہے۔ ان میں رازداری کے تحفظ، انصاف، غیر جانب داری اور تعصب کے خاتمے جیسے اصول شامل ہونے چاہییں۔ مصنوعی ذہانت کے نظام اس انداز سے تیار کیے جائیں کہ وہ قانونی تقاضوں، معاشرتی اقدار اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہوں۔ اس ضمن میں قانون سازوں، قانونی ماہرین اور مصنوعی ذہانت کے محققین کے درمیان قریبی تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے نظام کی مسلسل بہتری پر سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے، کیونکہ اے آئی کی جانب سے فراہم کردہ جوابات میں غلطیوں اور خامیوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ محققین اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیاری تربیتی ڈیٹا، مسلسل جانچ اور نگرانی کے ذریعے ان ماڈلز کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے کو بہتر بنائیں۔

مصنوعی ذہانت کے ماہرین، وکلا اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین باہمی تعاون سے ایسے نظام تیار کر سکتے ہیں جو زیادہ درست اور یکساں نتائج فراہم کریں۔ اسی طرح عوام میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں اس بحث میں شریک کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں، حدود اور ممکنہ استعمال سے متعلق متوازن رائے عامہ تشکیل پا سکے۔

عوام، سول سوسائٹی، قانونی ماہرین اور دیگر متعلقہ حلقوں کو پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے سے مختلف نقطہ ہائے نظر کو مدنظر رکھنے اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس تناظر میں ”ٹرام ڈائلیما“ ایک دلچسپ مثال پیش کرتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ جب قانون مبہم ہو یا کسی معاملے میں قانونی رہنمائی موجود نہ ہو تو مصنوعی ذہانت کو منصفانہ اور اخلاقی فیصلے کرنے کے لیے کس نوعیت کی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ یہ مثال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ قانونی معاملات میں اخلاقی فیصلے صرف مصنوعی ذہانت پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے انسانی نگرانی، قانونی مہارت اور مضبوط اخلاقی اصول ناگزیر رہیں گے۔

Comments

200 حروف