BR100 Increased By (1.77%)
BR30 Increased By (1.96%)
KSE100 Increased By (1.59%)
KSE30 Increased By (1.65%)
BAFL 58.99 Increased By ▲ 1.14 (1.97%)
BIPL 25.64 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 0.93 (2.76%)
CNERGY 8.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 19.08 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
DGKC 206.32 Increased By ▲ 12.22 (6.3%)
FABL 91.07 Increased By ▲ 1.18 (1.31%)
FCCL 54.40 Increased By ▲ 2.26 (4.33%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
GGL 20.80 Increased By ▲ 0.13 (0.63%)
HBL 288.35 Increased By ▲ 4.43 (1.56%)
HUBC 219.59 Increased By ▲ 7.11 (3.35%)
HUMNL 11.07 Increased By ▲ 0.03 (0.27%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.21 (2.68%)
LOTCHEM 28.77 Decreased By ▼ -0.19 (-0.66%)
MLCF 90.52 Increased By ▲ 4.01 (4.64%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 1.79 (0.57%)
PAEL 41.07 Increased By ▲ 1.11 (2.78%)
PIBTL 17.51 Increased By ▲ 0.24 (1.39%)
PIOC 278.98 Increased By ▲ 11.40 (4.26%)
PPL 225.84 Increased By ▲ 3.17 (1.42%)
PRL 34.63 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 100.42 Increased By ▲ 1.33 (1.34%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.30 (1.12%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.90 Decreased By ▼ -0.30 (-2.68%)
TRG 69.78 Decreased By ▼ -0.81 (-1.15%)
UNITY 11.52 Increased By ▲ 0.08 (0.7%)
WTL 1.27 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

بجٹ پر گرم بحث، وزیراعظم کی اپوزیشن کو مفاہمت کی پیشکش

  • اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے دوران انہوں نے مختلف صوبوں خصوصاً بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے حوالے سے شکایات اٹھائیں
شائع June 14, 2026 اپ ڈیٹ June 14, 2026 12:28pm

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز ایک بار پھر اپوزیشن کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات کو بڑھانے کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب قومی اسمبلی میں فنانس بل 2026-27 پر جاری گرم اور تنقیدی بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سخت خطاب کیا، جس میں انہوں نے سیاسی عدم استحکام، مبینہ انتقامی کارروائیوں اور سیکیورٹی چیلنجز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے دوران انہوں نے مختلف صوبوں خصوصاً بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے حوالے سے شکایات اٹھائیں اور کہا کہ انہیں نوآبادیات کی طرح برتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل صرف آئینی بالادستی اور بامعنی مذاکرات میں ہے، جبکہ ترقیاتی فنڈز کی معطلی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے پختونوں پر دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قومیت، زبان یا نسل کی بنیاد پر امتیاز ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں تاریخی واقعات اور سیاسی شخصیات کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا اور سابقہ ادوار کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔

محمود خان اچکزئی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں، 2018 میں فاٹا کے انضمام اور سیکیورٹی پالیسیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں عسکری تعیناتیوں کے طویل اثرات مرتب ہوئے ہیں اور مقامی حقوق کا احترام ضروری ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر سیاسی قوتوں سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی اپیل کی تاکہ سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اپوزیشن سے کوئی تصادم نہیں اور وہ تمام ارکان کو بھائی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ماضی میں بھی چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی کی کوششیں کی گئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی ترقی کے لیے سیاسی اور معاشی استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کے لیے 75 ارب روپے کے سولرائزیشن منصوبے، گوادر تا چمن 300 ارب روپے کے روڈ پروجیکٹ اور ریکوڈک منصوبے کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے غیر ملکی عناصر ملوث ہیں اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ وزیراعظم نے ڈیورنڈ لائن کی باڑ کو عوام کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بچے کی جان بھی بچتی ہے تو یہ اخراجات قابلِ جواز ہیں۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کی عالمی حیثیت کے لیے سیاسی و معاشی استحکام ضروری ہے اور ملک کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے مختصر ردعمل میں کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے تمام نکات کا مکمل جواب نہیں دیا۔ ایوان میں بجٹ پر بحث جاری رہی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف