صرف ٹیکس تبدیلیاں کافی نہیں، پیداواری لاگت کم کیے بغیر برآمدات میں اضافہ ناممکن، اسماعیل ستار
- حکومت ایسے اقدامات متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے جو برآمدات میں حقیقی اضافہ یقینی بنا سکیں، سالٹ مینوفیکچررز
سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے جو برآمدات میں حقیقی اضافہ یقینی بنا سکیں جبکہ ملک کو اس وقت زرمبادلہ کے حصول کے لیے برآمدی شعبے کی اشد ضرورت ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پاکستان کی برآمدی بنیاد کو وسعت دینے اور صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح اور جامع حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ پیداواری شعبوں کی حوصلہ افزائی کے حکومتی دعوؤں کے باوجود برآمد کنندگان کو معمولی ٹیکس ایڈجسٹمنٹس کے سوا کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی سب سے بڑی مایوسیوں میں سے ایک ایکسپورٹرز کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی نہ ہونا ہے۔ برآمدی شعبہ ایک سادہ اور قابل فہم ٹیکس نظام کا مطالبہ کر رہا تھا جو کمپلائنس لاگت کم کرے اور ٹیکس حکام کے ساتھ غیر ضروری رابطوں کو محدود بنائے۔انہوں نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کرتے ہوئے ایکسپورٹرز کو نارمل ٹیکس نظام میں برقرار رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ کاروباری اداروں کو اضافی کاغذی کارروائی اور پیچیدہ طریقہ کار کے بجائے سادگی، شفافیت اور پالیسیوں میں تسلسل درکار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے علاقائی حریف ممالک ٹیکس مراعات، کم پیداواری لاگت اور آسان ضابطہ کار کے ذریعے اپنے برآمد کنندگان کی بھرپور معاونت کر رہے ہیں جبکہ موجودہ بجٹ میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے کوئی قابل ذکر سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
اسماعیل ستار کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکس اقدامات کے ذریعے برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں اور بجٹ میں صنعتی توانائی کی لاگت کم کرنے کے لیے بھی کوئی مؤثر تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔ بجلی و گیس کے زائد نرخ پاکستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹوں میں مسابقتی صلاحیت کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ بجٹ میں صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کے مسئلے کو پیداواری شعبوں پر مزید بوجھ ڈالے بغیر کیسے حل کیا جائے گا۔
انہوں نے بعض کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک محدود نوعیت کا ریلیف ہے جو وسیع تر ساختی اصلاحات کے بغیر برآمدی کارکردگی پر نمایاں اثرات مرتب نہیں کر سکے گا۔ ملک بھر میں صنعتی یونٹس بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی مکمل استعداد سے کم صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔ اگر برآمد کنندگان اور صنعتکاروں کے لیے ہدفی مراعات متعارف نہ کرائی گئیں تو پاکستان کے لیے پائیدار معاشی ترقی کا حصول مشکل ہو جائے گا۔
اسماعیل ستار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی برآمدی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے اور بزنس کمیونٹی سے مشاورت کے ذریعے ایسی پالیسیاں مرتب کرے جو سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں توسیع اور عالمی مارکیٹوں میں پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کو معاشی پالیسی سازی کا مرکزی نکتہ بنایا جانا چاہیے۔برآمدی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر بیرونی کھاتوں پر مسلسل دباؤ کا خاتمہ اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا ممکن نہیں ہوگا۔



















Comments