مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات پر پیش رفت کا انتظار، ڈالر کی قدر مستحکم
- ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 99.17 پر تقریباً مستحکم رہا
امریکی ڈالر منگل کو عالمی کرنسی منڈیوں میں مجموعی طور پر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری امن مذاکرات کی پیش رفت کا انتظار کر رہے ہیں۔ لبنان کی جانب سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محدود جنگ بندی کے اعلان نے کشیدگی میں کچھ کمی کے اشارے دیے ہیں، تاہم وسیع تر علاقائی تنازعے کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سرمایہ کار ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی کو اب بھی نازک سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے عالمی مالیاتی منڈیوں کو کچھ استحکام مل سکتا ہے۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 99.17 پر تقریباً مستحکم رہا۔ یورو 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1634 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.07 فیصد بڑھ کر 1.346 ڈالر پر پہنچ گیا۔
ادھر جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمزور ہو کر 159.66 ین فی ڈالر پر آ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر 160 ین کی سطح عبور کرتا ہے تو جاپانی حکام کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
مارکیٹ کی نظریں اب امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری ہونے والے روزگار کے اعداد و شمار اور جمعہ کو متوقع ماہانہ ایمپلائمنٹ رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل کرنسیوں میں بٹ کوائن 0.13 فیصد کمی کے ساتھ 71,277 ڈالر جبکہ ایتھیریم 0.04 فیصد کمی کے بعد 2,001 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔

























Comments