BR100 Decreased By (-1.21%)
BR30 Decreased By (-1.49%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 57.10 Decreased By ▼ -0.59 (-1.02%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.32 (-1.17%)
BOP 33.80 Decreased By ▼ -0.39 (-1.14%)
CNERGY 9.79 Increased By ▲ 0.17 (1.77%)
DFML 18.50 Decreased By ▼ -0.13 (-0.7%)
DGKC 207.90 Decreased By ▼ -5.13 (-2.41%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.79 (-1.78%)
FCCL 53.80 Decreased By ▼ -0.35 (-0.65%)
FFL 16.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.83%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.54%)
HBL 305.64 Decreased By ▼ -3.62 (-1.17%)
HUBC 218.18 Decreased By ▼ -3.35 (-1.51%)
HUMNL 10.68 Decreased By ▼ -0.21 (-1.93%)
KEL 7.33 Decreased By ▼ -0.26 (-3.43%)
LOTCHEM 29.20 Decreased By ▼ -1.23 (-4.04%)
MLCF 96.09 Decreased By ▼ -2.07 (-2.11%)
OGDC 318.00 Decreased By ▼ -5.36 (-1.66%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.25 (-0.59%)
PIBTL 16.57 Decreased By ▼ -0.25 (-1.49%)
PIOC 281.00 Decreased By ▼ -4.96 (-1.73%)
PPL 220.39 Decreased By ▼ -4.34 (-1.93%)
PRL 44.55 Increased By ▲ 2.90 (6.96%)
SNGP 108.00 Decreased By ▼ -2.19 (-1.99%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -0.41 (-1.4%)
TELE 8.84 Decreased By ▼ -0.15 (-1.67%)
TPLP 12.19 Decreased By ▼ -0.58 (-4.54%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.74%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.22 (-2.12%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.03 (-2.36%)
کاروبار اور معیشت

بجٹ 2026-27: فری لانسرز کا غیرملکی آمدن پر ٹیکس ریلیف برقرار رکھنے کا مطالبہ

  • 0.25 فیصد ٹیکس رعایت کی مدت میں توسیع سے فری لانسنگ کو فروغ مل سکتا ہے، چیئرمین پیفلا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) نے وفاقی بورڈ آف ریونیو اور وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فری لانسنگ اور ڈیجیٹل افرادی قوت کی بھرپور حمایت جاری رکھی جائے۔

پیفلا کی جانب سے جاری کردہ بجٹ سفارشات میں کہا ہے کہ ملک میں بیٹھ کر نوجوان قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں، اس لئے ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ فری لانسرز کے غیر ملکی زرمبادلہ میں حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد ٹیکس کوآئندہ دس برس تک برقرار رکھی جائے۔

اس کے علاوہ فری لانسرز کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے فنڈز مختص کیے جائیں۔ نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے کے لئے مختلف شہروں میں فری لانسنگ حب قائم کیے جائیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشنز کے حصول کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے۔

بجٹ تجاویز کے حوالے سے پیفلا کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ 0.25 فیصد ٹیکس نظام میں توسیع سے فری لانسرز کو اپنی آمدنی مقامی بینکوں کے ذریعے ملک میں لانے کی ترغیب ملے گی جبکہ طلبہ، نوجوان پیشہ ور افراد اور خواتین کو بھی فری لانسنگ کو ایک پائیدار کیریئر کے طور پر اختیار کرنے کا حوصلہ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ میں رجسٹرڈ فری لانسرز اس وقت 0.25 فیصد ٹیکس شرح سے مستفید ہو رہے ہیں اور پیفلا اس بات کی خواہش مند ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فری لانسرز ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم اور سادہ ٹیکس نظام پوری ڈیجیٹل معیشت، فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور آئی ٹی صنعت کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی محنت تنظیم نے پاکستان کو دنیا میں ڈیجیٹل لیبر فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار کیا ہے جو پاکستان کے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل کے دوران فری لانسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن 959 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔

پیفلا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کو مہارتوں کی تربیت، خبروں اور تجزیوں، تعلیمی مواد اور معلوماتی و تفریحی مواد تیار کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پیچیدہ ٹیکس درجہ بندی کے نظام ڈیجیٹل ورکرز کو غیر رسمی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں دستاویزی ترسیلاتِ زر میں کمی اور پاکستان کی زرمبادلہ کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ اور اس کے منفی اثرات پوری صنعت پر مرتب ہوں گے۔

ڈاکٹر عمران نے حکومت پر زور دیا کہ ادائیگیوں کے نظام (پیمنٹ انفرااسٹرکچر) کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے، جس میں عالمی سطح پر مربوط قومی ادائیگی گیٹ وے کا قیام بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان بھر کے تمام ڈیجیٹل سروس فراہم کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز نے رواں مالی سال کے دوران تقریباً ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک کے لیے کمایا ہے۔ یہ ملک کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانی ہیں جو عالمی منڈی میں مقابلہ کر رہے ہیں اورزرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ وسیع تر آئی ٹی صنعت کے ساتھ مل کر یہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا معاشی موقع ہیں۔

ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کو اس شعبے کی حوصلہ افزائی جاری رکھنی چاہیے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔

Comments

200 حروف