ایران نے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ روک دیا، آبنائے ہرمز بلاک کیے جانے کا بھی امکان ہے، ایرانی نیوز ایجنسی
- لبنان پر حملوں کے باعث تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل معطل کیا ، تسنیم نیوز ایجنسی
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ تہران کی مذاکراتی ٹیم نے لبنان پر ہونے والے حملوں کے باعث ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تین ماہ سے جاری ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔
نیوز ایجنسی کے مطابق ایران اور ’مزاحمتی فرنٹ‘ جس میں یمن، لبنان اور عراق میں اس کے اتحادی شامل ہیں نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ”سزا“ دینے کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بلاک کرنے اور باب المندب سمیت دیگر محاذوں کو متحرک کرنے کا ایجنڈا تیار کر لیا ہے۔
اگر حوثی اس تنازع میں کوئی نیا محاذ کھولتے ہیں تو ان کا واضح ہدف یمن کے ساحل کے قریب واقع آبنائے باب المندب ہو گا، جو کہ سمندری نقل و حمل کا ایک انتہائی اہم اور تنگ راستہ ہے اور نہر سویز کی طرف جانے والی بحری ٹریفک کو کنٹرول کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کسی ایک بھی محاذ پر خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران اور لبنان سے ہے۔ اس جنگ نے عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم عالمی راستے ’آبنائے ہرمز‘ کو عملی طور پر بند کیے جانے کے بعد سے توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے مزید لکھا کہ ایرانی حکام اور مذاکرات کاروں کی جانب سے غزہ اور لبنان میں صیہونی حکومت کی جارحانہ و سفاکانہ فوجی کارروائیوں کو فوری روکنے اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا پر مسلسل زور دیا گیا ہے۔ جب تک اس معاملے پر ایران اور مزاحمتی فرنٹ کے مطالبات پورے نہیں ہوتے تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔























Comments