وزیراعظم کی چینی کارپوریٹ رہنماؤں سے ملاقات، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
- پاکستان کے قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک وہیکلز اور طبی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے اپنے سرکاری دورے کے دوران ہانگژو میں ممتاز چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، جن میں قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک موبیلیٹی (برقی گاڑیوں)، فارماسیوٹیکل (ادویات سازی) اور سرمایہ کاری میں تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق چینی کارپوریٹ سیکٹر تک رسائی کی کوششوں کے حصے کے طور پر وزیر اعظم شہباز شریف نے شینگ ہو نینگ یوآن کے جی کمپنی، ’سی اے ٹی ایل، اسٹار چارج اور شیو ژینگ فارماسیوٹیکل گروپ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
شینگ ہو نینگ یوآن کے جی کمپنی کی سی ای او اگنیس سیو سے ملاقات میں قابلِ تجدید توانائی بالخصوص سولر پاور (شمسی توانائی) کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
وزیر اعظم نے سی اے ٹی ایل کے ایگزیکٹو صدر آسکر لو سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے کلین انرجی (پاکیزہ توانائی) کی منتقلی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے جدید بیٹریاں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (انرجی اسٹوریج) اور سولر سے منسلک سلوشنز میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔
وزیر اعظم کی اسٹار چارج گروپ کی چیئرپرسن ڈین وئی شاؤ کے ساتھ ملاقات الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ انفرااسٹرکچر اور اسمارٹ موبیلیٹی سسٹمز پر مرکوز رہی۔
شیو ژینگ فارماسیوٹیکلز کے صدر شن یوآن نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے طبی شعبے میں ادویات سازی، ہیلتھ کیئر تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے، مینوفیکچرنگ پلانٹس قائم کرنے اور پہلے سے موجود پروڈکشن کی سہولیات کو وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
تمام ملاقاتوں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان میں کاروبار میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کے لیے حکومتی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان موجودہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان کاروباری سطح پر تعاون (بزنس ٹو بزنس) کی اہمیت پر زور دیا۔

























Comments