وزیر اعظم کی ژی جیانگ صوبے کی ترقیاتی کامیابیوں کی تعریف
- دونوں ممالک عملی، عوامی اور ترقی پر مبنی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف ہفتے کے روز چین کے مشرقی شہر ہانگژو پہنچ گئے، جہاں سے انہوں نے چار روزہ سرکاری دورے کا آغاز کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، ہانگژو ژاؤشان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا استقبال صوبہ ژی جیانگ کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کیا۔
آمد کے فوراً بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے ژی جیانگ صوبائی کمیٹی کے سیکرٹری وانگ ہاؤ سے ملاقات کی، جس کے دوران دونوں فریقین نے ژی جیانگ اور پنجاب کے درمیان سسٹر-پروونس تعلقات کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اس معاہدے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ملاقات کے دوران ایک اور دستاویز پر بھی دستخط کیے گئے، جس کے تحت ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور پاکستان کے سفارت خانے کے درمیان چین پاکستان مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر قائم کیا جائے گا۔ یہ مرکز تعلیمی تعاون، اپلائیڈ ریسرچ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دے گا۔
وزیر اعظم نے ژی جیانگ کی معاشی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے دورِ قیادت میں اس صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ژی جیانگ اس بات کی مثال ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے ژی جیانگ کے ساتھ ڈیجیٹل اکانومی، ای کامرس، آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، قابلِ تجدید توانائی، جدید صنعت، زراعت اور ہنر کی ترقی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر تعاون پاکستان چین تعلقات کا اہم ستون ہے اور یہ شراکت داری سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت صنعتی تعاون، زرعی جدید کاری، ٹیکنالوجی اور برآمدی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک عملی، عوامی اور ترقی پر مبنی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم اپنے دورے کے دوران پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے، جس کا مقصد سی پیک 2.0 کے تحت دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔
شہباز شریف چین کی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز سے ملاقات کریں گے اور علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی کریں گے۔
پاکستانی وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔
بیجنگ میں وزیر اعظم پاک-چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
اسلام آباد کے حکام کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور آل ویدر پارٹنرشپ کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments