چین نے شانزی کان حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد کم کرکے 82 کر دی
- یہ افراد چین کے شمالی صوبے شانزی میں واقع لیوشینیو کول مائن میں جمعے کی رات گیس دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے
چین میں گزشتہ 17 برس کے بدترین کان حادثے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کے باعث ہلاکتوں کی تعداد پر نظرثانی کرتے ہوئے مقامی حکام نے ہفتے کی شب بتایا کہ حادثے میں 82 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ افراد چین کے شمالی صوبے شانزی میں واقع لیوشینیو کول مائن میں جمعے کی رات گیس دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ابتدائی طور پر سرکاری میڈیا نے کم از کم 90 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔
تاہم کم تعداد کے باوجود یہ حادثہ 2009 کے بعد چین کا سب سے ہلاکت خیز کان حادثہ قرار دیا جا رہا ہے، جب صوبہ ہیلونگ جیانگ کی شین شنگ کان میں گیس دھماکے سے 108 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مقامی حکام نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی تعداد غلطی سے مرتب ہوئی تھی۔
شانزی کے ضلع قینیوان، جہاں یہ کان واقع ہے، کے سربراہ گوو شیاوفانگ نے کہا کہ حادثے کے بعد صورتحال انتہائی افراتفری کا شکار تھی اور کمپنی کے پاس کان میں موجود مزدوروں کی درست تعداد واضح نہیں تھی، جس کے باعث ابتدائی ہلاکتوں کا تخمینہ غلط جاری ہوا۔
دھماکے کے وقت کان کے اندر 247 مزدور کام کر رہے تھے۔
گوو شیاوفانگ کے مطابق دو افراد تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ 128 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا اور 35 افراد محفوظ رہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ہفتے کے روز زخمیوں کے علاج اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا۔
حکام کے مطابق اس کان کی سالانہ پیداواری صلاحیت 1.2 ملین ٹن کوئلہ ہے، جبکہ چین نے گزشتہ سال 4.83 ارب ٹن کوئلہ پیدا کیا تھا، جو اس کے توانائی کے شعبے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

























Comments