BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-1.26%)
KSE100 Decreased By (-0.5%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 56.87 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.97 Decreased By ▼ -0.15 (-1.14%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.70 Decreased By ▼ -0.44 (-0.47%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.50 Decreased By ▼ -0.22 (-1.49%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.44 (-2.25%)
HBL 306.45 Increased By ▲ 0.35 (0.11%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.97 Decreased By ▼ -0.19 (-1.87%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.16 Decreased By ▼ -0.30 (-1.13%)
MLCF 91.50 Decreased By ▼ -1.66 (-1.78%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.75 Increased By ▲ 0.07 (0.48%)
PIOC 239.96 Decreased By ▼ -3.25 (-1.34%)
PPL 222.00 Decreased By ▼ -4.91 (-2.16%)
PRL 91.30 Decreased By ▼ -1.72 (-1.85%)
SNGP 90.88 Decreased By ▼ -0.96 (-1.05%)
SSGC 23.20 Decreased By ▼ -0.61 (-2.56%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.58 Decreased By ▼ -0.39 (-3.01%)
TRG 56.25 Decreased By ▼ -0.31 (-0.55%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

حکومت کا فروٹ جوس انڈسٹری کو ٹیکس ریلیف دینے پر غور

  • صنعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فروٹ بیوریجز اور جوس سیکٹر کو کاربونیٹڈ ڈرنکس کے زمرے سے الگ کیا جائے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت پاکستان میں فروٹ جوس انڈسٹری کی ایک قابلِ عمل تجویز پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت نئے متعارف کرائے جانے والے ایسے جوسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) صفر فیصد یا کم شرح پر عائد کی جا سکتی ہے جن میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تیار کرنے والے حکام آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

صنعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فروٹ بیوریجز اور جوس سیکٹر کو کاربونیٹڈ ڈرنکس کے زمرے سے الگ کیا جائے۔ ان دونوں کیٹیگریز کو الگ کرنا کسانوں پر مشتمل فروٹ سپلائی چین کے استحکام اور صحت بخش متبادل کی فراہمی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

فروٹ جوس کی دستاویزی انڈسٹری نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایک نئی کیٹیگری متعارف کرانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے، جس میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہیں ہوگی۔ اس سے صارفین کو فروٹ جوسز کے شعبے میں مزید صحت بخش متبادل دستیاب ہوگا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سلیم منڈوی والا پہلے ہی بغیر اضافی سوکروز یا سفید چینی والے نئے جوسز پر ایف ای ڈی عائد نہ کرنے کی صنعت کی تجویز کی حمایت کر چکے ہیں۔

فروٹ جوس کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی فروخت میں 50 فیصد کمی آ چکی ہے، اس لیے ایف ای ڈی کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کی جائے اور فروٹ جوسز کو ٹیکس کے مقاصد کے لیے فزی ڈرنکس کے ساتھ شامل نہ کیا جائے۔

صنعت نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں موجودہ جوس ویریئنٹس پر ایف ای ڈی کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی جائے۔

فروٹ بیسڈ جوس انڈسٹری کا سال 2025 میں سالانہ کاروباری حجم تقریباً 40 ارب روپے تھا۔

سالانہ بجٹ 2023-24 میں جوسز پر اچانک 20 فیصد ایف ای ڈی نافذ کیے جانے کے بعد، جو کہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ تھا، انڈسٹری کا حجم 45 فیصد سے زائد کم ہو چکا ہے، جیسا کہ صنعت نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اس کمی کے باعث صنعت کا حجم تقریباً 2017 کی سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس سکڑتے ہوئے کاروبار کے منفی اثرات فروٹ فارمرز اور پلپ پروسیسرز پر بھی پڑ رہے ہیں۔

فارمل پیکجڈ جوس انڈسٹری بڑی حد تک مقامی بنیادوں پر قائم ہے۔ مقامی پھلوں کی خریداری کے ذریعے یہ نہ صرف خوراک کے ضیاع کو کم کرتی ہے بلکہ کسانوں کے روزگار کا تحفظ بھی کرتی ہے۔ 2022 میں صنعت نے مقامی کسانوں سے تقریباً 100,000 ٹن آم، کینو، سیب اور امرود خریدے تھے تاکہ انہیں پلپ میں تبدیل کیا جا سکے۔ تاہم ایف ای ڈی کے نفاذ کے بعد یہ حجم 2022 کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ کم ہو چکا ہے۔ موجودہ خریداری کا حجم 2017 سے بھی کم ہے، جب یہ صنعت ابتدائی ترقی کے مرحلے میں تھی۔

فوڈ اتھارٹیز فروٹ بیسڈ جوسز کو صحت بخش متبادل کے طور پر فروغ دیتی ہیں۔ مقامی قوانین کے مطابق فروٹ ڈرنکس میں کم از کم 8 فیصد پھلوں کا مواد، نیکٹرز میں 25 فیصد سے 50 فیصد جبکہ خالص جوسز میں 100 فیصد پھلوں کا مواد شامل ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ ٹیکس کے باعث صارفین کم قیمت، کم معیار اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ متبادل مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جو غیر دستاویزی شعبے کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ غیر دستاویزی شعبہ صنعت کے تقریباً 20 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ اس صورتحال کے باعث حکومت کو ریونیو نقصان کا بھی سامنا ہے۔

صنعت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلند شرح ایف ای ڈی نافذ کرنے کی ایک بڑی وجہ بعض ویریئنٹس میں سوکروز یا سفید چینی کی موجودگی پر تحفظات تھے، حالانکہ یہ مصنوعات فوڈ اتھارٹیز کے مقرر کردہ معیارات پر پوری اترتی ہیں۔ فارمل فروٹ جوس انڈسٹری ایسی نئی کیٹیگری متعارف کرانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے، جس میں اضافی سوکروز یا سفید چینی شامل نہیں ہوگی۔ اس سے صارفین کو مزید صحت بخش انتخاب میسر آئے گا۔

رابطہ کرنے پر ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کا ٹیکس پالیسی یونٹ صنعت کی ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف