BR100 Decreased By (-0.01%)
BR30 Decreased By (-0.32%)
KSE100 Increased By (0.01%)
KSE30 Increased By (0%)
BAFL 56.97 Increased By ▲ 0.10 (0.18%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.35 No Change ▼ 0.00 (0%)
CNERGY 13.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.38%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.75 Decreased By ▼ -0.70 (-0.36%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.29 Decreased By ▼ -0.27 (-1.38%)
HBL 307.11 Increased By ▲ 1.01 (0.33%)
HUBC 201.25 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
HUMNL 10.07 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.40 Decreased By ▼ -0.06 (-0.23%)
MLCF 92.99 Decreased By ▼ -0.17 (-0.18%)
OGDC 315.75 Decreased By ▼ -0.98 (-0.31%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.89 Decreased By ▼ -3.02 (-1.33%)
PRL 92.70 Decreased By ▼ -0.32 (-0.34%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.78 Decreased By ▼ -0.02 (-0.26%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 324 ملین ڈالر ریکارڈ

  • اشیاء و خدمات کی مجموعی برآمدات 3.47 ارب ڈالر رہیں، اسٹیٹ بینک
شائع اپ ڈیٹ

اپریل 2026ء کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 324 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ خسارہ مارچ 2026 میں ریکارڈ کیے گئے 1,134 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا جب کہ اپریل 2025 میں 12 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یہ خسارہ درآمدی بل میں نمایاں اضافے اور برآمدات میں معمولی اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔

اپریل 2026ء کے دوران اشیاء اور خدمات کی مجموعی برآمدات 3.47 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کی 3.36 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 3 فیصد سے زائد زیادہ ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل 2026ء کے دوران مجموعی درآمدات 6.86 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کی 6.16 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔

اپریل 2026ء کے دوران ترسيلات زر کا حجم 3.54 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 3.18 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 252 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1.66 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 15.98 ارب ڈالر ہوگئے جو سالانہ بنیادوں پر 54 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ پر جاری ساختی دباؤ کے باوجود بیرونی ادائیگیوں کے محاذ پر مضبوط پوزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔

ریئر انڈیکس

اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2026ء میں 104.29 کے مقابلے میں اپریل 2026ء میں پاکستان کا رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) بڑھ کر 105.80 کی سطح پر پہنچ گیا جو کہ گزشتہ 7 سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ 10 سال کی اوسط سطح 102.68 سے بھی زیادہ ہے۔

دوسری جانب نومینل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ انڈیکس (نیئر) اپریل 2026ء میں ماہانہ بنیادوں پر 0.35 فیصد کمی کے ساتھ 37.89 کی عبوری سطح پر آ گیا جو مارچ 2026ء میں 38.02 تھا۔

Comments

200 حروف