1.225 ٹریلین روپے کے فنڈز، حکومت نے چینی آئی پی پیز سے نئے معاہدوں کیلئے کوششیں تیز کردیں
- سی پی پی اے-جی کے مطابق حکومت پر چینی آئی پی پیز کے 560 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں
حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کام کرنے والے چینی آئی پی پیز کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں کہ وہ دیگر آئی پی پیز کی طرز پر نئے معاہدوں پر دستخط کریں، تاکہ کمرشل بینکوں سے حاصل کردہ 1.225 ٹریلین روپے کے فنڈز میں سے باقی رقوم جاری کی جا سکیں۔ یہ بات باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل انرجی ٹاسک فورس، جس کی سربراہی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کر رہے ہیں اور جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نجکاری اور لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال بھی شامل ہیں، نے چینی آئی پی پیز کے لیے مجوزہ طریقہ کار پر اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔
سی پی پی اے-جی کے مطابق حکومت پر چینی آئی پی پیز کے 560 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں، جو جون 2025 کے 430 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ تاہم مالی مشکلات کے باعث ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ چینی کمپنیاں اپنے واجبات کی وصولی کے لیے مختلف فورمز بشمول سی پیک سیکریٹریٹ سے رابطے کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے چینی آئی پی پیز کو تجویز دی ہے کہ وہ 1.225 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے لیے بنائے گئے فنڈ سے فائدہ اٹھائیں، لیکن اس کے لیے انہیں دیگر آئی پی پیز کی طرح رعایتی معاہدے کرنا ہوں گے، تاہم چینی کمپنیاں اس شرط کو قبول کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔
اس سے قبل حکومت نے اگست 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین سے قبل 16 چینی پاور منصوبوں کو 100 ارب روپے کی ادائیگی کی تھی، تاہم اب اضافی عارضی ادائیگیوں سے گریز کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے 18 کمرشل بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے کا قرض حاصل کیا تھا تاکہ توانائی کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ کم کیا جا سکے، جو اس وقت 1.8 ٹریلین روپے کے قریب ہے۔ تاہم اس فنڈ کا بڑا حصہ اس لیے جاری نہیں ہو سکا کیونکہ سی پیک آئی پی پیز رعایتی معاہدوں پر آمادہ نہیں ہیں۔
وفاقی کابینہ کے مطابق فنڈز اسی صورت جاری کیے جائیں گے جب چینی منصوبے رعایت دینے پر رضامند ہوں گے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ یا تو معاہدوں پر نظرثانی کی جائے گی یا پھر موجودہ شرائط کے تحت ادائیگیوں کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
سی پی پی اے-جی کے سی ای او ریحان اختر نے نیپرا میں ایک سماعت کے دوران کہا کہ بینک فنڈ کی تاخیر سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔
دوسری جانب پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی نے حکومت کو خط میں ادائیگیوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ ادائیگیوں میں تاخیر کی صورت میں وہ معاہدے کے تحت پیداوار روکنے کا حق رکھتی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا توانائی شعبہ بھاری سرکلر ڈیٹ کے بوجھ سے دوچار ہے، جس کے خاتمے کے لیے حکومت کو ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، سبسڈی میں کمی اور اضافی سرچارجز جیسے اصلاحاتی اقدامات کرنا ہوں گے، تاہم ان اقدامات سے صارفین پر قلیل مدتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments