گوتم اڈانی کو بڑی ریلیف : امریکہ بھارت کے امیر ترین شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے کو تیار
- بھارتی ارب پتی کا امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
امریکی محکمہ انصاف بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف کرمنل فراڈ (فوجداری دھوکہ دہی) کے الزامات ختم کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے، جنہوں نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
گوتم اڈانی نے جمعرات کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کی جانب سے دائر کردہ سول فراڈ کے ایک متعلقہ مقدمے کو بھی حل کر لیا، جو بھارتی سرکاری حکام کو رشوت دینے کی مبینہ اسکیم سے متعلق تھا، یہ تصفیہ اب عدالتی منظوری سے مشروط ہے۔
فوجداری الزامات کی ممکنہ برخاستگی اس وقت سامنے آئی ہے جب اڈانی کے وکیل رابرٹ گیوفرا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں نے گزشتہ ماہ محکمہ انصاف کے حکام کو ایک پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ جب تک یہ کیس چل رہا ہے، گوتم اڈانی وہ سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔ ان ذرائع میں سے ایک نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
گوتم اڈانی نے 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کی جیت کے بعد عوامی سطح پر اس رقم کی سرمایہ کاری اور امریکہ میں 15,000 ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گیوفرا نے اپنی 100 صفحات پر محیط پریزنٹیشن کا بڑا حصہ اس نکتے پر صرف کیا کہ یہ کیس قانونی طور پر کمزور ہے کیونکہ نہ تو یہ امریکی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور نہ ہی اس کے حق میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ واضح رہے کہ گیوفرا نے گزشتہ ماہ ایس ای سی کے متوازی کیس کی سماعت کے دوران بھی اسی قسم کے دلائل پیش کیے تھے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ کچھ پراسیکیوٹرز نے واضح کیا تھا کہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیس پر اثر انداز نہیں ہوگی، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دیگر حکام کا نظریہ اس سے مختلف تھا۔
محکمہ انصاف نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ بلومبرگ نیوز نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ محکمہ انصاف اڈانی کا کیس ختم کرنے کے قریب ہے۔
یہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ان ہائی پروفائل فوجداری مقدمات کو ترک کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جو ان کے ڈیموکریٹ پیشرو جو بائیڈن کے دور میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے شروع کیے تھے۔
نومبر 2024 میں، بروکلی کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اڈانی پر ایک مبینہ اسکیم کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ ان کی کمپنی کو بھارت کا سب سے بڑا سولر پاور پلانٹ تیار کرنے کی منظوری مل سکے۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ اڈانی اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے اپنی کرپشن چھپا کر 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے اور بانڈز حاصل کیے۔ اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
متعلقہ سول فراڈ کیس بھی حل
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گوتم اڈانی کو ایس ای سی کے ایک متعلقہ سول فراڈ کیس کا بھی سامنا تھا، جسے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے جمعرات کو عدالتی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے طے کر لیا ہے۔ گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی کو بھی ایس ای سی کے سول کلیمز کا سامنا تھا۔
ریکارڈ کے مطابق اڈانی اور ان کے بھتیجے 18 ملین ڈالر کے سول جرمانے ادا کریں گے، اگرچہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی غلط کام کا اعتراف یا تردید نہیں کرے گا۔ اڈانی گرین انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افراد اور ایس ای سی نے نیویارک کی ایک عدالت میں حتمی فیصلے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کر دی ہے، جس کا اب انتظار کیا جا رہا ہے۔
گوتم اڈانی کے وکلاء نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے موکلین اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ایس ای سی کی جانب سے مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کی پیشکش میں اڈانی کی عدم شمولیت اور دھوکہ دہی کی نیت یا غفلت کی عدم موجودگی کیس کی برخاستگی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ایس ای سی کے دعوؤں کو غیر قانونی طور پر ماورائے علاقہ بھی قرار دیا، جس سے مراد یہ ہے کہ اڈانی اور تمام مبینہ غلط طرز عمل بھارت میں تھا اور وہ بانڈز کبھی بھی امریکی ایکسچینج پر ٹریڈ نہیں ہوئے تھے۔
فوربس میگزین کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی 82 ارب ڈالر کے مالک ہیں، جو انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بناتا ہے۔
























Comments