پاک امارات تعلقات میں کوئی دراڑ نہیں آئی، دفتر خارجہ نے تمام افواہیں مسترد کر دیں
- یو اے ای کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار، 22 لاکھ پاکستانی وہاں مقیم ہیں، ورکرز کی بے دخلی کی رپورٹیں غلط ہیں
پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ تعلقات میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے روابط بدستور مضبوط ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت یا سرگرمی سے متاثر نہیں ہوئے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی اعتماد اور دیرینہ تعاون پر مبنی مضبوط اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاک امارات تعلقات انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، اس وقت تقریباً 22 لاکھ پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 8 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد اور ابوظہبی کے تعلقات میں کسی بھی قسم کی منفی تبدیلی کا قطعاً کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ وضاحت ان حالیہ میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیجی ریاست نے پاکستانی ورکرز، بالخصوص اہل تشیع ملازمین کی بڑے پیمانے پر بے دخلی شروع کر دی ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات میں ممکنہ تبدیلی کا تاثر ابھرا تھا۔ اس سے قبل پاکستان کی وزارتِ داخلہ بھی ان رپورٹوں کو مسترد کر چکی ہے۔
بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے بھارت کے اندر سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کا بھی خیر مقدم کیا اور اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت میں ہوش کے ناخن لیے جائیں گے اور گزشتہ کئی سالوں سے جاری جنگی جنون اور جارحانہ رویہ ختم ہو جائے گا۔

























Comments