دوسرا قطری ایل این جی ٹینکر ہرمز کے راستے پاکستان کی طرف رواں دواں، شپنگ ڈیٹا
- ایران اور پاکستان پر مشتمل انتظامات کے تحت پہلی بار اس نوعیت کے کارگو کو آبنائے ہرمز سے گزارا گیا
ایران اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ایک انتظام کے تحت قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جاری تنازع کے خطرات کے باوجود اس حساس آبی راستے سے کھیپیں کیس ٹو کیس بنیاد پر عبور کر رہی ہیں۔
مہزم نامی یہ جہاز، جس کی گنجائش 174,000 مکعب میٹر ہے، قطر کے راس لفان سے روانہ ہو کر پاکستان کے پورٹ قاسم کی طرف شمال مشرقی سمت میں بڑھ رہا ہے، اور ایل ایس ای جی شپنگ ڈیٹا کے مطابق اس کی آمد 12 مئی کو متوقع ہے۔
یہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد قطر کے ایل این جی ٹینکر کی آبنائے ہرمز سے دوسری کامیاب ترسیل ہوگی۔ اس سے قبل ہفتے کے روز الخراطیت نامی ایل این جی ٹینکر نے ایران کے منظور شدہ شمالی راستے سے آبنائے ہرمز کا سفر شروع کیا اور اتوار کو اسے کامیابی سے عبور کر لیا۔
9 مئی کو معاملے سے واقف دو افراد کے مطابق قطر پاکستان کو یہ ایل این جی ایک بین الحکومتی معاہدے کے تحت فروخت کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اس جنگ میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے یہ کھیپ قطر اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر منظور کی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں قطر سے مزید دو ایل این جی ٹینکرز پاکستان کی جانب روانہ ہونے کی توقع ہے۔ اسی دوران پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی اس بات پر بات چیت کی ہے کہ محدود تعداد میں ایل این جی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اس عمل میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے اور دونوں ممالک پہلے جہاز کی محفوظ ترسیل کے لیے رابطے میں ہیں، جو قطر اور پاکستان کے معاہدے کے تحت گیس لے جا رہا ہے۔
اس سے قبل اسی ماہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی (ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی) اے ڈی این او سی(ایڈنوک) کے دو ایل این جی ٹینکر بھی اسی آبنائے سے گزرے تھے، تاہم ان کے ٹریکنگ سگنلز بند کر دیے گئے تھے، جو اس آبی راستے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور حساس صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
قطر دنیا کا دوسرا بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے، جس کی زیادہ تر برآمدات ایشیائی منڈیوں کو جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں سے قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت کا 17 فیصد متاثر ہوا ہے، جبکہ مرمت کے باعث سالانہ 12.8 ملین میٹرک ٹن پیداوار 3 سے 5 سال تک متاثر رہنے کا امکان ہے۔

























Comments