ڈیوٹیوں میں اچانک کمی سے گریز کیا جائے، صنعت کاروں کا انتباہ
- وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گیٹرون انڈسٹریز اور نوواٹیکس کے سی ای او سمیت صنعتی نمائندوں کی ملاقات
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے جمعہ کو پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں اور صنعت کے بڑے اسٹیک ہولڈرز بشمول گیٹرون انڈسٹریز اور نوواٹیکس لمیٹڈ کے سی ای او نے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں صنعتی پائیداری، ٹیرف اصلاحات، برآمدات میں تسلسل اور پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے دوران شرکاء نے ٹیرف اصلاحات کے وسیع تر اثرات، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی اور مقامی صنعتوں بالخصوص پیٹرو کیمیکل، پلاسٹک، پالیسٹر اور ایس ایم ای سیکٹرز کو متاثر کرنے والے اخراجات کے ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا۔
صنعتی نمائندوں نے مؤقف اپنایا کہ اچانک ڈیوٹی میں کمی سے مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور حکومتی آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے حقیقی برآمدی صنعت اور درآمدی تجارت میں تفریق کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرتجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی و برآمدی پالیسی کو طویل المدتی صنعتی ترقی اور پائیدار مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بننے کیلئے وقت، انفرااسٹرکچر اور پالیسی تسلسل درکار ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات، توانائی لاگت اور سکیورٹی چیلنجز خطے کے دیگر ممالک سے مختلف ہیں۔
اجلاس میں غیر دستاویزی معیشت اور غیر مساوی نفاذ کے باعث رجسٹرڈ صنعتوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
جام کمال خان نے رجسٹرڈ صنعتوں کے تحفظ کیلئے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ پیٹروکیمیکل، پی وی سی، پلاسٹک اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں کو پاکستان کی صنعتی ترقی کیلئے اہم قرار دیا گیا۔
صنعتی نمائندوں نے کہا کہ مستحکم صنعتی پالیسی اور معاون ٹیرف ڈھانچہ نئی سرمایہ کاری کیلئے ناگزیر ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ جنوبی کوریا، چین، جاپان اور امریکہ میں صنعتی ترقی مرحلہ وار حکومتی معاونت سے ممکن ہوئی۔
وزارتِ تجارت کاروباری برادری اور صنعتکاروں سے مشاورت جاری رکھے گی تاکہ متوازن اور پائیدار تجارتی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔

























Comments