مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات، ین مستحکم، ڈالر کی قدر میں اضافہ
- امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج میں نئے حملوں نے مارکیٹ کو مزید غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا
منگل کے روز جاپانی ین کی قدر مجموعی طور پر مستحکم رہی، کیونکہ گزشتہ ہفتے ممکنہ حکومتی مداخلت کے بعد مارکیٹ میں جاری بے چینی برقرار ہے۔ اس مداخلت کے نتیجے میں ین کی قدر میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں خطرے سے بچاؤ کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
آسٹریلین ڈالر 0.7168 ڈالر پر تقریباً بغیر تبدیلی کے رہا، جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ آسٹریلیا کے مرکزی بینک کے فیصلے پر مرکوز رہی ہے، جہاں توقع ہے کہ افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود میں مسلسل تیسری بار اضافہ کیا جائے گا۔
مہنگائی میں اضافہ 2025 کے وسط سے اہدافی حد سے اوپر ہے، جس کے باعث پالیسی سخت کی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھی مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، جو عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
پیر کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج میں نئے حملوں نے مارکیٹ کو مزید غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا، جس سے خام تیل کی قیمتیں 113 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہیں۔
ڈالر انڈیکس 98.452 پر مستحکم رہا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں، جس سے عالمی کرنسی مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گی۔ ین کی قدر بھی تیل کی قیمتوں اور جنگ کی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے، اور یہ 155 سے 160 کی حد کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہنے کا امکان ہے۔

























Comments