BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.04%)
KSE100 Increased By (0.23%)
KSE30 Increased By (0.27%)
BAFL 57.09 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.46 Increased By ▲ 0.11 (0.36%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 16.72 Increased By ▲ 0.82 (5.16%)
DGKC 193.38 Increased By ▲ 0.93 (0.48%)
FABL 94.15 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 52.97 Increased By ▲ 0.18 (0.34%)
FFL 14.77 Increased By ▲ 0.05 (0.34%)
GGL 19.15 Decreased By ▼ -0.41 (-2.1%)
HBL 307.50 Increased By ▲ 1.40 (0.46%)
HUBC 201.95 Increased By ▲ 0.53 (0.26%)
HUMNL 10.16 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.66 Increased By ▲ 0.50 (0.54%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.70 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
PIBTL 14.98 Increased By ▲ 0.30 (2.04%)
PIOC 243.70 Increased By ▲ 0.49 (0.2%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.40 Increased By ▲ 0.38 (0.41%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.85 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
TPLP 12.95 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
TRG 56.90 Increased By ▲ 0.34 (0.6%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ

  • کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی)اپریل 2026 میں 10.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

ہیڈ لائن افراطِ زر دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی)اپریل 2026 میں 10.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ 21 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ کور انفلیشن بھی بڑھ کر 8.2 فیصد تک پہنچ گئی جو 13 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ماہانہ بنیاد پر اضافہ 2.5 فیصد رہا، جس کی بنیادی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کا ٹرانسپورٹ سروسز اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا پر اثر ہے۔

یہ صرف آغاز ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کے بالواسطہ اثرات ابھی سی پی آئی میں مزید ظاہر ہوں گے، جس کے نتیجے میں مہنگائی مئی اور جون میں 14 سے 15 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ مہنگائی میں اس اضافے کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حالیہ 100 بیسس پوائنٹس شرح سود میں اضافہ مناسب سمجھا جا رہا ہے۔

مہنگائی کا دباؤ شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ واضح ہے۔ ماہانہ بنیاد پر شہری مہنگائی میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ 2.1 فیصد رہا۔ کور انفلیشن میں بھی یہی فرق نظر آیا، شہری علاقوں میں 1.9 فیصد اضافہ جبکہ دیہی علاقوں میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔

مجموعی طور پر شہری سی پی آئی 11.1 فیصد (کور 9.2 فیصد) جبکہ دیہی سی پی آئی 10.6 فیصد (کور 8.5 فیصد) ریکارڈ کیا گیا۔

خوراک کی مہنگائی ماہانہ بنیاد پر 1.8 فیصد بڑھی، جس کی بڑی وجہ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہے، جو مارچ 2026 کے مقابلے میں 15.3 فیصد بڑھیں۔ شہری علاقوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 57 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح تازہ سبزیوں کی قیمتیں شہری علاقوں میں 41 فیصد اور دیہی علاقوں میں 26 فیصد بڑھیں۔

تازہ دودھ، جو سی پی آئی باسکٹ میں 7.1 فیصد وزن رکھتا ہے، شہری علاقوں میں 2.9 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں صرف 0.9 فیصد بڑھا۔

شہری اور دیہی فرق کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی — جہاں موٹر فیول کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 18 سے 20 فیصد اضافہ ہوا، وہیں ٹرانسپورٹ سروسز شہری علاقوں میں 28 فیصد بڑھ گئیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ صرف 8 فیصد رہا۔

شہروں میں بس سروسز اور دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات زیادہ متنوع ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں سہولیات محدود ہیں، اس لیے وہاں قیمتوں میں اضافہ نسبتاً کم رہا۔ چونکہ یہ اشیا کور انفلیشن میں شامل ہیں، اس لیے یہی فرق کور انفلیشن میں بھی واضح اضافہ کی وجہ بن رہا ہے۔

ایندھن سے متعلق براہِ راست اور بالواسطہ اثرات کے علاوہ گزشتہ ماہ تعلیمی اشاریہ بھی ماہانہ بنیاد پر 3 فیصد بڑھا جبکہ سالانہ اضافہ 8.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ باقی ذیلی اشاریوں میں فی الحال کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ مستقبل میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات مزید شعبوں میں ظاہر ہوں گے۔

آگے چل کر گندم کی قیمتیں، جو مسلسل کم ہو رہی تھیں، اب دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس بات کے آثار موجود ہیں کہ گندم کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم ہو سکتی ہے، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات مجموعی افراطِ زر پر بھی ظاہر ہوں گے۔ اور یہ، بیس ایفیکٹ کے ساتھ مل کر، آنے والے دو مہینوں میں مہنگائی کو 14 سے 15 فیصد تک لے جا سکتا ہے۔

مکمل مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7 سے 8 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیانی مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد سے معمولی طور پر زیادہ ہے۔

Comments

200 حروف