ڈالر کے مقابلے میں روپے کی پیش قدمی جاری
- ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 278.82 روپے پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 278.82 روپے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ جمعہ کو مقامی کرنسی 278.85 روپے پر بند ہوئی تھی ۔
ایک اہم پیشرفت میں اسٹیٹ بینک نے سال 2026 کے اپنے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے جس میں یہ پہلے سے ہی اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ مرکزی بینک مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے تناظر میں شرحِ سود میں اضافہ کرے گا کیونکہ ان حالات نے توانائی کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جس سے افراطِ زر (مہنگائی) کی نئی لہر کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ادھرامریکی ڈالر نے پیر کو مضبوط آغاز کیا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے متعلق امن معاہدے کی امیدیں مزید کمزور ہو گئیں جس سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی۔ اسی دوران جاپانی ین بھی کمزور ہو کر 160 کے اہم نفسیاتی لیول کے قریب رہا جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں جاپان کے مرکزی بینک کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا کہ اگر ایران مذاکرات کرنا چاہے تو وہ خود رابطہ کرسکتا ہے، تاہم اسی دوران امریکہ نے پاکستان کا سفارتی دورہ بھی منسوخ کر دیا جس سے امن کوششوں کو دھچکا لگا، اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز بند رہی جو عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، برینٹ خام تیل 2 فیصد بڑھ کر 107.49 ڈالر فی بیرل جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 96.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اس اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمزور ہوئے جب کہ ڈالر انڈیکس 98.623 پر مستحکم رہا۔ ماہرین کے مطابق امن مذاکرات میں تعطل کے باعث مارکیٹیں دوبارہ قیمتوں میں بڑے اتار چڑھاؤ کے خطرے سے دوچار ہیں۔
دوسری جانب جاپان کا مرکزی بینک شرح سود برقرار رکھنے کی توقع ہے تاہم مستقبل میں سخت مانیٹری پالیسی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور بینک آف انگلینڈ بھی شرح سود میں تبدیلی نہ کرنے کا امکان رکھتے ہیں جب کہ سرمایہ کار ان کے بیانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

























Comments