مالی دباؤ سے بنیادی خدمات متاثر ہورہی ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک
- اے ڈی بی نے 2025 میں پاکستان کے لیے 3.672 ارب ڈالر کی نئی مالیاتی معاونت کا وعدہ کیا
ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان کو مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے جو ضروری خدمات اور جامع ترقی میں سرمایہ کاری کو محدود کر رہا ہے۔
بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اے ڈی بی نے 2025 میں پاکستان کے لیے 3.672 ارب ڈالر کی نئی مالیاتی معاونت کا وعدہ کیا ہے، جو گزشتہ سال کے 2.995 ارب ڈالر کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران پبلک سیکٹر کے لیے 1.485 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ 2024 میں یہ رقم 1.113 ارب ڈالر تھی۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر قرضے کمرشل شرائط پر دیے گئے ہیں۔
اے ڈی بی نے ایک 800 ملین ڈالر کے پیکج کی بھی منظوری دی ہے، جس میں 300 ملین ڈالر کا پالیسی بیسڈ لون اور 500 ملین ڈالر تک کی گارنٹی شامل ہے۔ اس سے حکومت کو اضافی 1 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
اس پروگرام کا مقصد بجٹ خسارے اور قرضوں میں کمی لا کر سماجی اخراجات کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنا ہے۔ اس میں ٹیکس پالیسی، انتظامی بہتری، سرکاری اخراجات کے بہتر نظم و نسق اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک پالیسی بیسڈ گارنٹی کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے کمرشل بینکوں کی قرض دہی کے خطرات کم کیے جا رہے ہیں، جس سے 1 ارب ڈالر کی نجی فنانسنگ متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔
اے ڈی بی نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو مالی خدمات تک محدود رسائی اور رسمی ملازمتوں میں کم نمائندگی کے باعث معاشی شرکت کا بڑا خلا موجود ہے، جو تقریباً 37 فیصد ہے۔ اس خلا کو کم کرنے کے لیے 350 ملین ڈالر کی معاونت فراہم کی گئی ہے تاکہ خواتین کی ملکیت والے کاروبار کو فروغ دیا جا سکے۔
اس میں 300 ملین ڈالر کا قرض قانونی و ریگولیٹری اصلاحات کے لیے اور 50 ملین ڈالر کا قرض خواتین کاروباری افراد کے لیے کریڈٹ اور ضمانتوں کی فراہمی کے لیے شامل ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے 20 لاکھ خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی کاروباری صلاحیتیں بڑھانے اور ملک بھر میں مساوی معاشی مواقع کے فروغ کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مزید برآں پنجاب میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) تعلیم کے فروغ کے لیے بھی ایک منصوبہ منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت کم از کم 1,700 لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی، جن میں سے 50 فیصد لڑکیوں کے اسکولوں میں ہوں گی۔ اس منصوبے کے لیے 100 ملین ڈالر کا قرض اور 7 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments