بلوچستان میں این آر ایل سائٹ پر حملہ، 10 افراد جاں بحق
- موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار تقریباً 40 مسلح افراد نے کان کنی منصوبے کی سائٹ پر دھاوا بولا
بلوچستان میں منگل کی شام نامعلوم حملہ آوروں نے نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) کی ڈریگوان سائٹ پر حملہ کر کے کم از کم 10 افراد کی جان لے لی، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 22 اپریل 2026 کو تقریباً پونے چھ بجے نامعلوم شرپسندوں نے نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کے ڈریگوان ایریا سائٹ پر حملہ کیا۔ فرنٹیئر کور (ایف سی) سمیت سیکورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی اور علاقے کو محفوظ بنا لیا ہے۔ عملے اور اثاثوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
اگرچہ کمپنی نے اپنے بیان میں جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا، تاہم مقامی انتظامیہ نے کم از کم 10 افراد کی اموات کی تصدیق کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں پر سوار تقریباً 40 عسکریت پسندوں نے این آر ایل کی کان کنی کے منصوبے پر دھاوا بولا۔ مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں سات کارکنوں اور تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت دس افراد مارے گئے ہیں۔ ایسی غیر تصدیق شدہ اطلاعات بھی ہیں کہ عسکریت پسند کچھ ملازمین کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جب کہ کسی گروہ نے اب تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
این آر ایل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بلوچستان کی مقامی کمیونٹی کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی کے مطابق ڈریگوان سائٹ پر کام کرنے والے 90 فیصد سے زائد افرادی قوت کا تعلق بلوچستان سے ہی ہے۔
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ این آر ایل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور معلومات ملنے پر مزید اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔ ہمارے ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ این آر ایل مکمل طور پر ایک پاکستانی نجی کمپنی ہے جو کوئٹہ میں رجسٹرڈ ہے۔ یہ فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز اور لکی سیمنٹ کا ایک مشترکہ منصوبہ (جوائنٹ وینچر) ہے، جسے صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کان کنی کے مواقع تلاش کرنے اور ترقی دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

























Comments