BR100 Decreased By (-0.89%)
BR30 Decreased By (-1.54%)
KSE100 Decreased By (-0.8%)
KSE30 Decreased By (-0.8%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.13 (-0.23%)
BIPL 24.93 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.91 Decreased By ▼ -0.21 (-1.6%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.92 Decreased By ▼ -0.87 (-1.65%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.89 Decreased By ▼ -1.21 (-0.4%)
HUBC 199.02 Decreased By ▼ -2.40 (-1.19%)
HUMNL 9.90 Decreased By ▼ -0.26 (-2.56%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 312.80 Decreased By ▼ -3.93 (-1.24%)
PAEL 35.09 Decreased By ▼ -0.54 (-1.52%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 240.55 Decreased By ▼ -2.66 (-1.09%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -5.91 (-2.6%)
PRL 90.93 Decreased By ▼ -2.09 (-2.25%)
SNGP 90.94 Decreased By ▼ -0.90 (-0.98%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.54 (-2.27%)
TELE 7.53 Decreased By ▼ -0.27 (-3.46%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.20 Decreased By ▼ -0.36 (-0.64%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

صارفین کا تحفظ، پی ٹی اے نے سخت شرائط کے ساتھ ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام کی منظوری دے دی

  • یوفون کو ٹیلی نار کے لائسنسوں سے جڑی تمام موجودہ ذمہ داریوں بشمول سروس کے معیار، مالی واجبات اور ریگولیٹری فریم ورک کو بلا مشروط قبول کرنا ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی نار پاکستان کے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) میں انضمام کی طویل عرصے سے زیرِ التوا درخواست منظور کر لی ہے۔ تاہم یہ منظوری صارفین کے تحفظ، مارکیٹ میں مقابلے کی فضا برقرار رکھنے اور ملک بھر میں سروس کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے سخت شرائط کے ساتھ دی گئی ہے۔

اس فیصلے کا مرکزی پیغام بالکل واضح ہے کہ انضمام کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے لیکن یہ ریگولیٹری ادارے کی کڑی نگرانی میں ہوگا۔ پی ٹی اے نے ہدایت دی ہے کہ انضمام مکمل ہونے کے بعد یوفون (پی ٹی ایم ایل) کو ٹیلی نار پاکستان کے تمام واجبات، ذمہ داریوں اور ریگولیٹری فرائض کو مکمل طور پر اپنے ذمے لینا ہوگا۔

انضمام کے لیے سخت شرائط

  • اتھارٹی نے دونوں کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ قانونی انضمام کی تکمیل تک وہ آزادانہ طور پر کام جاری رکھیں اور تمام لائسنس شرائط کی پابندی کریں۔

  • یوفون کو ٹیلی نار کے لائسنسوں سے جڑی تمام موجودہ ذمہ داریوں بشمول سروس کے معیار، مالی واجبات اور ریگولیٹری فریم ورک کو بلا مشروط قبول کرنا ہوگا۔

  • مارکیٹ میں خلل سے بچنے کے لیے پی ٹی اے نے حکم دیا ہے کہ فرنچائز اور ریٹیلر کے معاہدوں میں انضمام کے بعد کم از کم چھ ماہ تک کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

  • صارفین کو اردو اور انگریزی اخبارات میں ملک گیر اشتہارات کے ذریعے انضمام کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کرنا ہوگا۔

  • صارفین کے تحفظ کے لیے ریگولیٹر نے صارف کی واضح رضامندی کے بغیر سبسکرپشن پیکجز کی خودکار تجدید پر پابندی لگا دی ہے اور 60 دنوں کے اندر مفت بیلنس سیو سروس متعارف کرانے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں کسٹمر کی تصدیق شدہ منظوری کے بغیر کسی بھی ویلیو ایڈڈ سروس (وی اے ایس) کو فعال نہیں کیا جا سکتا۔

  • نرخوں (ٹیرف) کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ انضمام کے بعد یوفون کو پی ٹی اے کی پیشگی منظوری کے بغیر ریٹیل یا ہول سیل سروسز کی قیمتوں میں ترمیم یا نئی قیمتیں متعارف کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مقابلے کی فضا اور مارکیٹ کے تحفظات

یہ انضمام 2025 کے آخر میں پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کی خریداری کے بعد عمل میں لایا جا رہا ہے، جس سے دونوں آپریٹرز ایک ہی کارپوریٹ چھتری کے نیچے آ گئے ہیں۔

فی الوقت پاکستان کی ٹیلی کام مارکیٹ میں چار بڑے سیلولر آپریٹرز ہیں۔ اس انضمام کے بعد بننے والی نئی کمپنی (ایم ای آر جی ای کو) مارکیٹ ریونیو کے تقریباً 31.7 فیصد اور صارفین کے 35.7 فیصد حصے پر قابض ہو جائے گی، جس سے یہ مارکیٹ کا ایک بڑا اور غالب کھلاڑی بن جائے گی۔

پی ٹی اے نے تسلیم کیا کہ اس انضمام سے مارکیٹ میں اجارہ داری بڑھ سکتی ہے، جسے روکنے کے لیے انفرااسٹرکچر شیئرنگ اور منصفانہ رسائی سے متعلق سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ نئی کمپنی کو تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنے نیٹ ورک تک بلا امتیاز رسائی فراہم کرنی ہوگی۔

نیٹ ورک کا انضمام اور سروس کا معیار

تکنیکی محاذ پر پی ٹی اے نے نیٹ ورک کے انضمام کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی ترتیب دی ہے

  • یوفون کو 60 دنوں کے اندر نیٹ ورک انٹیگریشن کا تفصیلی پلان جمع کرانا ہوگا، تاکہ انضمام کے دوران سروسز متاثر نہ ہوں۔

  • نیٹ ورک کی موجودہ کوریج اور استعداد کو برقرار رکھنا اور وقت کے ساتھ اسے بہتر بنانا لازمی ہوگا۔ نیٹ ورک سائٹس کو ہٹانے کی صورت میں سروس لیول میں کمی نہیں آنی چاہیے اور دیگر آپریٹرز کو ان سائٹس کے حصول میں ترجیح دی جائے گی۔

  • انٹرنیٹ کی رفتار کے لیے بھی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق دو سال کے اندر اوسط ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 20 ایم بیز، چار سال میں 35 ایم بیز اور نو سال میں 50 ایم بیز تک پہنچانا ہوگی۔

اسپیکٹرم اور انفرااسٹرکچر کی نگرانی

انضمام کے بعد نئی کمپنی کے پاس 56 میگا ہرٹز سے زیادہ اسپیکٹرم ہوگا، جس سے اس کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تاہم پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ اسپیکٹرم کا موثر استعمال ضروری ہے، بصورتِ دیگر غیر استعمال شدہ وسائل واپس لیے جا سکتے ہیں۔

صارف کا تحفظ اولین ترجیح

پی ٹی اے نے زور دیا ہے کہ صارف کا مفاد اس فیصلے کا مرکز ہے۔ صارفین کو انضمام کے بعد کم از کم تین ماہ تک اپنے موجودہ پیکجز استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، تاکہ منتقلی کا عمل ہموار رہے۔ اس کے علاوہ تمام اضافی سروسز کو واضح طور پر دکھانا اور انہیں ختم کرنا آسان بنانا ہوگا۔

تعمیل کی شرط کے ساتھ حتمی منظوری

پی ٹی اے نے لائسنس کی منتقلی اور انضمام کی درخواست کو باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے لیکن این او سی کا اجراء اس شرط پر ہے کہ دونوں فریق 15 دنوں کے اندر تمام عائد کردہ شرائط کو قبول کریں۔

قانونی طور پر انضمام مکمل ہونے کے بعد ٹیلی نار پاکستان کی علیحدہ حیثیت ختم ہو جائے گی اور اس کے تمام لائسنس یوفون میں ضم ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں حالیہ برسوں کے سب سے اہم انضمام کی نمائندگی کرتا ہے۔

Comments

200 حروف