متحدہ عرب امارات کا 3.5 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنے کے لیے پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
- 27 مارچ 2026 تک ملک کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21.8 ارب ڈالر تھے
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے فیصلے کے بعد پاکستان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر حکومت اس ادائیگی کے انتظام کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ادائیگی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس اخراج (آؤٹ فلو) کو متوازن کرنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں، اگرچہ آنے والے فنڈز کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے 450 ملین ڈالر ادا کیے جائیں گے، جبکہ بقیہ 3 ارب ڈالر دو قسطوں میں (17 اپریل کو 2 ارب ڈالر اور 23 اپریل کو 1 ارب ڈالر) کلیئر کیے جائیں گے۔ یہ ادائیگی 8 اپریل کو ہونے والی 1.3 ارب ڈالر کی یورو بانڈ ادائیگی کے علاوہ ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس درج ذیل ممکنہ حل موجود ہیں:
دوست ممالک سے فنڈز:
اطلاعات کے مطابق حکومت نے ادائیگی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دو دوست ممالک سے فنڈز کا انتظام کر لیا ہے، جسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کرنسی سوئیپ (SWAPs):
حکومت جون 2026 تک کرنسی سوئیپ انتظامات کا سہارا لے سکتی ہے۔ فی الحال پاکستان کا سوئیپ ایکسپوزر 1.8 ارب ڈالر ہے جسے ضرورت پڑنے پر بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم اس سے آئی ایم ایف کے نیٹ انٹرنیشنل ریزرو (این آئی آر) اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔
مارکیٹ سے خریداری:
ایک اور آپشن یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے جارحانہ انداز میں ڈالر خریدے یا کچھ ضروریات مارکیٹ سے پوری کرے اور بقیہ رقم کے لیے ذخائر میں معمولی کمی برداشت کر لے۔
اتنی بڑی ادائیگیوں کے باوجود فاریکس مارکیٹ فی الحال پرسکون ہے اور روپے کی قدر میں کمی کے بجائے معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے مناسب ذخائر ہونے کی وجہ سے روپے کی قدر قابو میں رہے گی۔ 27 مارچ 2026 تک ملک کے مجموعی مائع غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21.789 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے۔

























Comments