ایران جنگ کے باعث خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی
- دبئی کی مرکزی اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس تقریباً 2 فیصد گر گیا
ایران سے جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی بیشتر اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو ابتدائی کاروبار کے دوران مندی دیکھی گئی، جس میں دبئی کی مارکیٹ نمایاں طور پر نیچے رہی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات نے مارکیٹوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ویک اینڈ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خارگ جزیرے پر مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کے بعد تہران نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا جس سے مزید جوابی کارروائیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خارگ جزیرے پر حملوں کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں ایک بڑے آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ فجیرہ میں تیل کی لوڈنگ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر معمول پر آ گئی ہیں یا نہیں۔
دبئی کی مرکزی اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس تقریباً 2 فیصد گر گیا۔ اس کمی کی بڑی وجہ معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی ایمار پراپرٹیز کے حصص میں 4 فیصد کمی اور بڑے بینک ایمریٹس این بی ڈی کے حصص میں 1.4 فیصد کمی رہی۔ ایران تنازع کے آغاز سے اب تک دبئی مارکیٹ کا انڈیکس 18 فیصد سے زیادہ گر چکا ہے۔
ادھر ابوظہبی کے اسٹاک انڈیکس میں بھی 1.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس میں الدار پراپرٹیز کے حصص 4.6 فیصد گر گئے۔ اس کے ساتھ ہی مارکیٹ کی مجموعی مالیت گھٹ کر 771.9 ارب ڈالر رہ گئی ہے جو تنازع شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 77.2 ارب ڈالر کم ہے۔
سعودی عرب کے بینچ مارک انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی آئی جبکہ قطر کے انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی ہوئی، جہاں قطر نیشنل بینک کے حصص 1.6 فیصد نیچے آئے۔ اسی طرح عمان کے انڈیکس میں 0.7 فیصد اور بحرین کے انڈیکس میں ایک فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں جس کا اثر خطے کی مالیاتی منڈیوں پر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔






















Comments