فائیو جی نیلامی: پی ٹی ایم ایل نے 156.75 ملین ڈالر میں 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کر لیا
- پی ٹی سی ایل کی ذیلی کمپنی تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد پی ٹی اے کے ساتھ فائیو جی لائسنس پر دستخط کرے گی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے پاکستان کے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) یعنی فائیوجی اسپیکٹرم کی نیلامی میں 156.75 ملین ڈالر کے عوض 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کر لیا ہے۔
نوٹس کے مطابق 10 مارچ 2026 کو ہونے والی این جی ایم ایس یعنی فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتیجے میں پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے مختلف بینڈز میں مجموعی طور پر 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کرلیا ہے۔
جمعرات کو ہونے والے اسائنمنٹ اسٹیج کے بعد جس کا مقصد ہر بینڈ کے اندر مخصوص فریکوئنسی پوزیشنز کا تعین کرنا تھا، پی ٹی ایم ایل (یوفون) نے 156.75 ملین ڈالر کی مجموعی قیمت پر اپنے 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم کے لیے 2600 میگاہرٹز کے بینڈ میں 60 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بینڈ میں 120 میگاہرٹز حاصل کرلیے ہیں۔
نوٹس کے مطابق پی ٹی ایم ایل تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ این جی ایم ایس یعنی فائیو جی لائسنس پر دستخط کرے گی اور اس کے مطابق فائیو جی سروسز کا آغاز کرے گی۔ اس کے ساتھ پی ٹی ایم ایل کے برانڈز یوفون، ’ٹیلی نار اور اونک کے صارفین کے لیے ملک بھر میں سیلولر موبائل براڈ بینڈ سروسز کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
پاکستان نے این جی ایم ایس اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی سے 510 ملین ڈالر (تقریباً 142 ارب روپے) حاصل کر لیے ہیں۔ اسی دوران، ٹیلی کام ریگولیٹر (پی ٹی اے) نے پوزیشن اسائنمنٹ کی نیلامی کا عمل بھی مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد آپریٹرز کی جانب سے حاصل کردہ اسپیکٹرم بلاکس کی درست جگہ کا تعین کرنا تھا۔
اس عمل میں 2600 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بینڈز شامل تھے، جہاں آپریٹرز نے نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مختلف نیٹ ورکس کے درمیان مداخلت کو کم سے کم کرنے کے لیے نچلے، درمیانی اور بالائی بلاکس کی پوزیشنوں کے لیے بولیاں دیں۔
تاہم، 700 میگاہرٹز بینڈ کے لیے کسی بھی اسائنمنٹ پراسیس کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ جاز نے نیلامی کے دوران تنہا ہی اسے حاصل کر لیا تھا۔






















Comments