تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سخت مانیٹری پالیسی کے خدشات، ڈالر 2026 کی بلند سطح کے قریب
- ایشیا میں ابتدائی تجارت میں یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1549 ڈالر پر آ گیا جو نومبر کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے باعث جمعرات کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے امریکی ڈالر کی قدر رواں سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہی، جبکہ دیگر بڑی کرنسیاں دباؤ کا شکار رہیں۔
ایشیا میں ابتدائی تجارت میں یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1549 ڈالر پر آ گیا جو نومبر کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپانی ین بھی کمزور ہو کر ایک مرحلے پر فی ڈالر 159 کی سطح سے نیچے چلا گیا اور 159.23 تک گر گیا، جو جولائی 2024 کے بعد کمزور ترین سطح کے قریب ہے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.7148 ڈالر جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.1 فیصد گر کر 0.5907 ڈالر پر آ گیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 1.3385 ڈالر تک نیچے آ گیا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تیزی سے عالمی افراطِ زر میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث مرکزی بینک سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی فوج نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بھی کم ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ مضبوط پوزیشن میں ہے، تاہم امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کی قیادت اب بھی مستحکم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

























Comments