صوبائی ریونیو اتھارٹیز نے ایف بی آر کے خدمات انٹیگریشن کے ایس آر او کی مخالفت کر دی
- ایف بی آر کے مجوزہ ایس آر او کے مطابق آن لائن نظام کے ذریعے منسلک کاروباری اداروں کو اپنے آؤٹ لیٹس، پوائنٹ آف سیل یا الیکٹرانک انوائسنگ ٹرانزیکشنز کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی
صوبائی ریونیو اتھارٹیز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے نوٹیفکیشن ایس آر او نمبر 288(I)/2026 کی مخالفت کر دی ہے، جس کے تحت خدمات فراہم کرنے والے اداروں، پیشہ ور افراد اور سروس فراہم کنندگان کو انکم ٹیکس مقاصد کے لیے ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صوبائی اداروں نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن انٹیگریشن آف بزنسز سے متعلق اس نوٹیفکیشن کے حتمی اجرا کو مؤخر کیا جائے۔
ایف بی آر کے مجوزہ ایس آر او کے مطابق آن لائن نظام کے ذریعے منسلک کاروباری اداروں کو اپنے آؤٹ لیٹس، پوائنٹ آف سیل یا الیکٹرانک انوائسنگ ٹرانزیکشنز کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی اور کوئی بھی سپلائی صرف انٹیگریٹڈ آؤٹ لیٹس، پوائنٹ آف سیل یا الیکٹرانک بل جاری کرنے والی مشینوں کے ذریعے ہی کی جا سکے گی۔
بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے ایف بی آر کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ 18 فروری 2026 کے مسودہ نوٹیفکیشن کے تحت انکم ٹیکس رولز 2002 کے چیپٹر VII-A میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے جس میں خدمات سے متعلق انوائسز کی تفصیلات اور دستاویزات کے تقاضوں کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس تجویز کے تحت ریستوران، ریٹیلرز اور صحت کے شعبے سمیت مختلف کاروباروں کے لیے ریئل ٹائم الیکٹرانک انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل انٹیگریشن لازمی قرار دی جائے گی۔
بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ریگولیٹری نظام میں دہراؤ پیدا ہوگا بلکہ آئین کے چوتھے شیڈول کی اینٹری 49 کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت مختلف سروس فراہم کنندگان کی تنظیموں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کاروباروں پر دوہرا بوجھ پڑے گا کیونکہ انہیں ایف بی آر اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز دونوں کے نظام کے ساتھ پوائنٹ آف سیل انٹیگریشن کرنا پڑے گا۔
ادھر سندھ ریونیو بورڈ نے بھی ایف بی آر کو آگاہ کیا ہے کہ زیادہ تر خدمات پہلے ہی سندھ سیلز ٹیکس قوانین کے تحت انٹیگریشن کی پابند ہیں اور نئے نظام سے ٹیکس دہندگان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ دونوں اداروں نے ایف بی آر اور صوبائی اتھارٹیز کے درمیان ٹیکس معلومات کے محفوظ تبادلے کے مؤثر نظام کی فوری تشکیل پر بھی زور دیا ہے۔
صوبائی ریونیو اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس رولز 2002 کے چیپٹر VII-A میں مجوزہ تبدیلیوں پر حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل صوبوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments