پی آئی اے کے نئے مالکان کا آئی پی او لانے کا اعلان
- مالکان ائر لائن کے 5 سے 10 فیصد حصص اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، عقیل کریم ڈھیڈھی
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے نئے مالکان نے فضائی آپریشنز کا انتظام سنبھالنے کے ایک سال کے اندر آئی پی او لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈھی نے عالمی میڈیا ادارے کو بتایا کہ پی آئی اے کے مالکان ائر لائن کے 5 سے 10 فیصد حصص (شیئرز) اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عقیل کریم ڈھیڈھی جو اس کنسورشیم میں 16 فیصد حصہ داری رکھتے ہیں جس نے قومی ایئر لائن کے 75 فیصد حصص (اسٹیکس) 135 ارب روپے میں خریدے ہیں نے بتایا کہ پی آئی اے براہِ راست پروازوں کی پیشکش کے ذریعے مارکیٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے (بہت سے مقامات کے لیے) کوئی براہِ راست پروازیں نہیں ہیں اور فی الوقت مسافر قطر، ابوظہبی، سعودی عرب اور ترکیہ کی ایئر لائنز سے ٹرانزٹ پروازیں لے رہے ہیں۔ ہم ان ایئر لائنز سے اپنا کاروبار واپس لیں گے، وہ مسافر جنہیں براہِ راست پرواز کی سہولت میسر ہو وہ کبھی بھی ٹرانزٹ پرواز لینا پسند نہیں کریں گے۔
اس سے قبل بزنس ریکارڈ نے رپورٹ کیا تھا کہ عارف حبیب کی سربراہی میں قائم یہ کنسورشیم اپریل 2026 میں (پی آئی اے کا) کنٹرول سنبھال لے گا۔
پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان کے کسی بھی سرکاری ادارے کی سب سے اہم فروخت ہے، کیونکہ شدید مالی مشکلات کا شکار حکومت نے ان خسارے میں چلنے والے اداروں سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کیا ہے جوخزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
گزشتہ ماہ عارف حبیب نے پی آئی اے کی بحالی کا روڈ میپ (منصوبہ) پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ ایئر لائن کے تمام 34 طیاروں کا بیڑہ ستمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال اور سروس کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔
عارف حبیب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے مسائل برسوں سے جمع ہو رہے تھے۔
ایئر لائن پر بھاری قرضے جمع ہوتے چلے گئے کیونکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں سالانہ قرضوں کی ضمانتیں فراہم کرتی رہیں جس سے ادھار لینے کا سلسلہ قابو سے باہر ہو گیا۔ سود کی بھاری ادائیگیوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا، جس سے واجبات میں مسلسل اضافے کا ایک ایسا چکر شروع ہوا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
پی آئی اے اب ملکیت کے ایک نئے ڈھانچے کے تحت کام کررہی ہے جس میں حکومت کے پاس 25 فیصد حصص برقرار ہیں جبکہ 75 فیصد انتظامی اختیارات عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں قائم نجی شعبے کے کنسورشیم کے پاس ہیں جس نے ادارے کا آپریشنل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔






















Comments