وزیراعظم نے صنعتوں کیلئے جن مراعات کا اعلان کیا ان کا واضح مقصد برآمدات کو فروغ دینا ہے کیونکہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اس شعبے میں علاقائی ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے۔ ان مراعات میں صنعتوں کی جانب سے بجلی پر ادا کی جانے والی کراس سبسڈی کا خاتمہ، وہیلنگ چارجز (بجلی کی ترسیل کے اخراجات) کو 9 روپے فی یونٹ سے کم کرنا، اور رائس ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) سے چاول کے برآمد کنندگان کو سبسڈی کا اجرا شامل ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دو پہلوؤں پر وضاحت فراہم کرے۔
پہلا یہ کہ اگرچہ ایسی رپورٹیں موجود ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے تاکہ ان سخت پیشگی مانیٹری اور مالیاتی شرائط کو بتدریج ختم کیا جا سکے جو سیاسی طور پر انتہائی دشوار گزار ہیں اور جن کی بنیاد بلا شبہ ان شرائط پر سختی سے عمل درآمد ہے جو اکتوبر 2024 میں توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کی باضابطہ منظوری کے وقت طے پائیں، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ آیا آئی ایم ایف نے ان مخصوص مراعات کی منظوری دی ہے یا نہیں، کووڈ کی عالمی وبا کے بعد سے، آئی ایم ایف یا تو اسٹاف لیول معاہدوں کو ملتوی کرتا رہا ہے یا اگلی قسط کے اجرا کو روکتا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک پر ڈیفالٹ کے منڈلاتے خطرات کا سامنا رہا ہے کیونکہ 3 دوست ممالک کی جانب سے سالانہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی واپسی میں توسیع آج تک صرف آئی ایم ایف کے فعال پروگرام سے منسلک ہے۔
یہ بات نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ صنعت و زراعت کو دی جانے والی مراعات کے بارے میں آئی ایم ایف کی تشخیص کافی سخت اور تنقیدی ہے: سبسڈیز کم لاگت کی فنانسنگ (قرضوں) اور دیگر مراعات کی شکل میں دی گئی ہیں جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف رہی ہیں لیکن ان کی وجہ سے فنانسنگ اور ٹیکسز کی شرح (سبسڈیز نکالنے کے بعد) دیگر ہم پلہ معیشتوں اور ان شعبوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار رہی ہے جنہیں کم ترجیح دی گئی تھی۔ ٹیکس نظام کو ریئل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی جیسے بااثر شعبوں کو ٹیکس چھوٹ کے ذریعے غیر شفاف مدد فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ’خصوصی اقتصادی زونز کی بہتات بھی اسی مقصد کے لیے رہی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین میں مداخلت جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (سال میں دو بار) شامل ہیں اور اس کے ساتھ بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ نے میدان کو چند مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا ہے۔ ان تمام تر مراعات کے باوجود بزنس سیکٹر معاشی ترقی کا انجن بننے میں ناکام رہا ہے، اور ان ترغیبات نے انجام کار مقابلے کی فضا کو کمزور کیا اور وسائل کو دائمی طور پر نااہل (بشمول وہ صنعتیں جو ہمیشہ ’ابتدائی مرحلے‘ یا انفینٹ لیول پر ہی رہیں) صنعتوں میں پھنسا کر رکھ دیا ہے۔
چاہے کچھ بھی ہو مخصوص صنعتوں کو مراعات دینے کے بجائے حکام کے لیے یہ زیادہ مناسب ہوتا کہ وہ موجودہ انقباضی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں پر دوبارہ مذاکرات کرتے۔ یہ مقصد حکومتی قرضوں کی ضرورت میں نمایاں کمی لا کر اور بالواسطہ ٹیکسوں جن کا تناسب اس وقت 75 فیصد سے زیادہ ہے پر انحصار کم کر کے اور ’استطاعت کے مطابق‘ براہِ راست ٹیکسوں میں اضافہ کر کے حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہ سب تبھی ممکن تھا اگر حکومت اپنے جاری اخراجات میں خاطر خواہ کمی کرنے کا فیصلہ کرتی جس کے نتیجے میں تجارتی بینکوں کے قرضے حکومت کے بجائے نجی شعبے کی طرف مڑ جاتے اور ساتھ ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے سالانہ محصولات کے حقیقت پسندانہ اہداف حاصل کرنا ممکن ہو جاتا۔
دوسرا یہ کہ ان مراعات کے لیے فنڈز کا ذریعہ کیا ہوگا جبکہ یہ بجٹ کا حصہ نہیں تھیں، اور بجٹ خسارے پر ان کے (ممکنہ) اثرات کیا ہوں گے؟ اگرچہ حکومت نے ناقص کارکردگی والے شعبوں، بالخصوص بجلی اور گیس، میں ’فل کاسٹ ریکوری‘ (مکمل لاگت کی وصولی) کا عہد کر رکھا ہے، تاہم ان شعبوں کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے بڑی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے جو کہ ابھی تک زیرِ التوا ہیں۔ ان (اصلاحات) میں درج ذیل شامل ہیں:(i) سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) کا ایک بڑا حصہ ادا کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.25 ٹریلین روپے ادھار لینے کا حالیہ فیصلہ جو پہلے ہی پاور سیکٹر کو ضرورت سے زیادہ قرض دے چکے ہیں اس نے حکومت کو ٹیرف میں کمی کرنے کے قابل تو بنا دیا لیکن آئی ایم ایف نے اس کی منظوری صرف اس لیے دی کیونکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا تھا۔ اس صورتحال سے پوری طرح باخبر ہوتے ہوئے آئی ایم ایف نے یہ شرط عائد کی کہ اگر قرض کی واپسی میں محصولات کی کوئی کمی واقع ہوئی تو ’ڈیبٹ سروس سرچارج‘ پر لگی 10 فیصد کی حد (کیپ) ختم کر دی جائے گی۔
جائے؛(ii) 2014 سے پہلے کے آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے نتیجے میں بجلی کی قیمت میں محض 43 پیسے فی یونٹ کی کمی ہوئی تاہم سی پیک کے تحت لگائے گئے پاور پلانٹس نے دوبارہ مذاکرات سے انکار کردیا ۔ ان پلانٹس کو کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے جن میں اس وقت ڈرامائی اضافہ ہوا ہے جب سے حکومت کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی (سولر وغیرہ) کی حمایت کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی آئی ہے۔ مزید برآں ان پلانٹس کو منافع کی واپسی ڈالرز میں کرنی ہوتی ہے جس کی ملک میں پہلے ہی شدید قلت ہے۔؛اور حکومت کا یہ فیصلہ کہ پورے ملک میں ایک ہی ٹیرف کو یقینی بنانے کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی پالیسی کو برقرار رکھا جائے (ایک ایسی پالیسی جو پڑوسی ممالک بھارت یا چین میں رائج نہیں ہے) جس کے لیے رواں سال کے بجٹ میں پاور سیکٹر کی سبسڈیز کی مد میں ایک ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مزید برآں، پیسہ فنگ ایبل ہوتا ہے (یعنی اسے ایک مقصد سے دوسرے مقصد کے لیے آسانی سے منتقل کیا جا سکتا ہے)، اس لیے حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ سے چاول کے برآمد کنندگان کو فنڈز کے اجرا کے حوالے سے وضاحت فراہم کرے۔
ان فیصلوں کے باوجود یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسلام آباد چیمبر نے مزید اہم اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جن میں کائبور کو سنگل ڈیجٹ (10 فیصد سے کم) پر لانا، ٹیکس نظام کو منطقی بنانا اور کاروبار کرنے کی لاگت میں مزید کمی لانا شامل ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک پائیدار درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی حکمت عملی کی شدید ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ ہم صرف وقتی طور پر آگ بجھانے کے اقدامات کریں اور ایک ناقابلِ برداشت ’بیلنس آف پیمنٹ‘ (ادائیگیوں کے توازن) کے بحران سے نکل کر دوسرے میں پھنس جائیں۔ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے ،بشمول حکومت، پیداواری شعبے (صنعت و زراعت) اور وہ آزاد معیشت دان جو اتنی دیانتداری رکھتے ہوں کہ جہاں ضرورت ہو وہ حکومت کے فیصلوں کو چیلنج کر سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments