نجکاری کمیشن نے اسلام آباد ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کر لیا
- ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مجوزہ مسابقتی عمل میں شمولیت کو ترجیح دی جائے گی
نجکاری کمیشن نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو طویل مدتی کمرشل کنسیشن موڈ کے تحت فعال نجکاری فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
کمیشن کے مطابق حکومت اس وقت تین بڑے ہوائی اڈوں — اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کے آپریشنز آؤٹ سورس کرنے کے مختلف آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مینجمنٹ کنٹریکٹس اور طویل مدتی کمرشل کنسیشنز سمیت موزوں طریقہ کار زیر غور ہیں۔
حکومت کے بنیادی مقاصد میں کارکردگی بہتر بنانا، سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانا، آمدن میں زیادہ سے زیادہ اضافہ، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ملکی و غیر ملکی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا شامل ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب سمیت دیگر شراکت دار ممالک کے اداروں کے ساتھ تعمیری بات چیت کی گئی ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کے وسیع تر معاشی وژن کے مطابق ہیں، جس کا مقصد باہمی فائدہ مند تعاون کے ذریعے ایوی ایشن سیکٹر کو جدید بنانا ہے۔
نجکاری کمیشن نے بعض گمراہ کن خبروں کا نوٹس لیا ہے جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق کسی مجوزہ معاہدے کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کمیشن نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ کسی لیز معاہدے کو منسوخ کیا ہے، حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے، کیونکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کسی بھی ہوائی اڈے کے حوالے سے ایسا کوئی معاہدہ یا لیز کبھی طے ہی نہیں پایا۔
نومبر 2025 میں ان کنسیشنز میں شرکت کے لیے مختلف سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا کہ تینوں ہوائی اڈوں کے لیے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ موڈ کے بجائے اوپن بڈنگ موڈ اختیار کیا جائے۔ اس مسابقتی عمل میں تمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو برابری کی بنیاد پر بڈنگ میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ یہ فیصلہ کسی سیاسی یا سفارتی پس منظر کا حامل نہیں بلکہ مکمل طور پر معاشی اور طریقہ کار سے متعلق وجوہات پر مبنی ہے۔
ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مجوزہ مسابقتی عمل میں شمولیت کو ترجیح دی جائے گی، جس کے تحت شراکت دار ممالک سمیت دیگر اہل اداروں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا، پاکستان کی معیشت کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دیرپا تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments