پی ٹی سی ایل پراپرٹی تنازع: اسحاق ڈار اتصالات انتظامیہ سے ملاقات کیلئے دبئی پہنچ گئے
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات کی انتظامیہ سے ملاقات کے لیے دبئی پہنچ گئے۔ اس سرکاری دورے کا مقصد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نامکمل نجکاری کے حوالے سے تقریباً 799 ملین ڈالر کی رقم روکے جانے سے متعلق دیرینہ تنازع کو حل کرنا ہے۔
دفترِ خارجہ سے جاری ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسحاق ڈار سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس سے ایک سرکاری دورے پر دبئی پہنچے ہیں، جس کے دوران وہ ’اتصالات‘ کی انتظامیہ سمیت دیگر اہم سرکاری ملاقاتیں کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار کا دورۂ متحدہ عرب امارات ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔
پاکستان، متحدہ عرب امارات اور کئی دیگر ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسحاق ڈار کے اس دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی رپورٹوں کے دوران ہو رہا ہے۔
تاہم دفترِ خارجہ کے بیان میں اسحاق ڈار کی متحدہ عرب امارات کے کسی بھی نمایاں وزیر یا اعلیٰ سرکاری عہدیدار سے ملاقاتوں کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
2006 میں پاکستان نے پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول 2.6 ارب ڈالر کے عوض ’اتصالات انٹرنیشنل پاکستان‘ کو فروخت کر کے اس کی نجکاری کی۔ اگرچہ شروع میں اسے ایک سنگِ میل اصلاحات کے طور پر سراہا گیا، لیکن یہ سودا جائیدادوں کی منتقلی کے طویل تنازع کا شکار ہو گیا، جس کی وجہ سے اتصالات نے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر کی رقم ابھی تک روک رکھی ہے۔
پاکستانی حکومت پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کے مطابق 2006 کے معاہدے میں درج پی ٹی سی ایل کی جائیدادیں متحدہ عرب امارات کی کمپنی کو منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
کوششوں کے باوجود یہ تنازع حل طلب ہے، جبکہ 2025 کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائیدادوں کی منتقلی کے حل نہ ہونے والے مسائل کو نمٹانے کے لیے نئے سرے سے ’ان کیمرہ‘ (خفیہ) مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق، پاکستان اپنے اس سابقہ فیصلے پر قائم ہے کہ 16 سال پرانے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی (عدالتی راستہ) اختیار نہیں کی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments