ٹرمپ نے وینزویلا کے اوپیک میں رہنے کی حمایت کردی
- یقین نہیں کہ یہ فیصلہ امریکہ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک بہتر ہوگا کہ وینیزویلا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن برقرار رہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ یہ فیصلہ امریکہ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ بدھ کو رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ وینیزویلا اوپیک میں شامل رہے؟ اس پر صدر نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ وینیزویلا کے مفاد میں ہے، مگر امریکہ کے لیے کیا نتائج ہوں گے اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔
وینیزویلا اوپیک کے بانی ممالک میں شمار ہوتا ہے اور دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک کا مالک ہے۔ تاہم معاشی عدم استحکام، بد انتظامی اور بیرونی پابندیوں کے باعث ملک کی تیل کی پیداوار گزشتہ برسوں میں شدید گراوٹ کا شکار رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد وینیزویلا کی تیل پالیسی پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور بقول ٹرمپ، واشنگٹن ملک کی توانائی صنعت کی بحالی تک اس کے وسائل پر کنٹرول رکھنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وینیزویلا امریکی اثر انداز پالیسی کے تحت کام کرے گا تو آیا اسے اوپیک کے پیداوار کے ضوابط پر عمل کرنا ہوگا؟ اس سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ان کا اوپیک کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوپیک کی حکمت عملی اور امریکی اہداف بعض مواقع پر ایک دوسرے کے متصادم ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر امریکہ وینیزویلا میں پیداوار بڑھانے کی کوشش کرے اور اوپیک عالمی قیمتوں کو سہارا دینے کے لیے کٹوتیاں نافذ کرے۔
عالمی توانائی منڈی میں اوپیک اجتماعی فیصلوں کا پلیٹ فارم ہے، لیکن سعودی عرب کو تنظیم میں عملی رہنمائی کا کردار حاصل ہے، جو ضرورت کے مطابق سپلائی بڑھانے یا گھٹانے کی صلاحیت سے لیس ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں وینیزویلا کی اوپیک رکنیت ٹرمپ انتظامیہ کی تیل پالیسی میں ایک اہم نقطۂ بحث بن سکتی ہے۔

























Comments
Comments are closed.