BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.50 (0.86%)
BIPL 27.08 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
BOP 33.92 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 11.10 Increased By ▲ 0.36 (3.35%)
DFML 18.06 Increased By ▲ 0.28 (1.57%)
DGKC 215.83 Increased By ▲ 8.52 (4.11%)
FABL 100.69 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
FCCL 55.90 Increased By ▲ 1.72 (3.17%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.99 (4.32%)
HBL 309.24 Increased By ▲ 5.57 (1.83%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 2.77 (1.28%)
HUMNL 10.73 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.30 Increased By ▲ 0.12 (1.67%)
LOTCHEM 27.29 Increased By ▲ 0.32 (1.19%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 319.09 Increased By ▲ 5.05 (1.61%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.25 (0.59%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.04 (0.23%)
PIOC 272.98 Increased By ▲ 3.53 (1.31%)
PPL 221.32 Increased By ▲ 5.11 (2.36%)
PRL 63.42 Increased By ▲ 3.28 (5.45%)
SNGP 105.88 Increased By ▲ 2.99 (2.91%)
SSGC 25.93 Increased By ▲ 0.65 (2.57%)
TELE 8.46 Increased By ▲ 0.21 (2.55%)
TPLP 14.71 Increased By ▲ 1.34 (10.02%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 10.01 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
پاکستان

ترکیہ کی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش

معاہدہ طے پانے کے قوی امکانات ہیں، بلومبرگ
شائع اپ ڈیٹ

بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس طرح کا اتحاد فطری معلوم ہوتا ہے کیونکہ ترکیہ کے مفادات تیزی سے سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات کے ہم آہنگ ہورہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات پیشرفت کے آخری مراحل میں ہیں اور ایک معاہدہ ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

بلومبرگ کے مطابق دفاعی اتحاد میں ترکیہ کی شمولیت جو کہ امریکہ کے بعد نیٹو میں سب سے بڑی فوجی قوت ہے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض کے سرکاری دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت، پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ اس معاہدے کو اپنی سیکیورٹی اور دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کی ساکھ اور اس پر بھروسے سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انقرہ میں قائم تھنک ٹینک تیپو کے ماہرِ حکمتِ عملی نہاد علی اوزکان کے مطابق، یہ اتحاد تینوں ممالک کی منفرد طاقتوں کا ایک مجموعہ ثابت ہوگا۔ سعودی عرب اپنے مالی اثر و رسوخ اور مضبوط معیشت کے ساتھ سرمایہ کاری فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور وسیع فوجی افرادی قوت کی بنیاد پر ایک کلیدی دفاعی قوت ہے جب کہ ترکیہ بہترین فوجی تجربے اور جدید ترین دفاعی صنعت کا حامل ہے جو جدید جنگی آلات تیار کر رہی ہے۔

اوزکان نے بلومبرگ کو بتایا کہ چونکہ امریکہ خطے میں اپنے ذاتی مفادات اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے طریقہ کار وضع کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں کی واضح پہچان کر سکیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ترکیہ کی وزارتِ دفاع، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور سعودی عرب کے حکام نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان قریبی فوجی تعلقات قائم ہیں۔ گزشتہ ماہ، اسلام آباد میں اعلیٰ سطح ترکیہ وفد نے پاکستان میں مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور پیداواری سہولیات کے قیام میں گہری دلچسپی کا عندیہ دیا۔

Comments

Comments are closed.