BR100 Decreased By (-0.25%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 58.35 Decreased By ▼ -0.10 (-0.17%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.12 (0.47%)
BOP 33.79 Decreased By ▼ -0.46 (-1.34%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 20.71 Decreased By ▼ -0.25 (-1.19%)
DGKC 197.20 Decreased By ▼ -0.27 (-0.14%)
FABL 90.03 Increased By ▲ 0.52 (0.58%)
FCCL 53.49 Decreased By ▼ -0.40 (-0.74%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.19 (-1.05%)
GGL 20.35 Increased By ▲ 0.55 (2.78%)
HBL 285.69 Decreased By ▼ -0.37 (-0.13%)
HUBC 214.12 Decreased By ▼ -1.28 (-0.59%)
HUMNL 11.11 Increased By ▲ 0.11 (1%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.09 (-1.11%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.61 (2.22%)
MLCF 87.40 Decreased By ▼ -0.65 (-0.74%)
OGDC 320.31 Decreased By ▼ -4.25 (-1.31%)
PAEL 40.25 Increased By ▲ 0.31 (0.78%)
PIBTL 17.14 Decreased By ▼ -0.18 (-1.04%)
PIOC 274.58 Decreased By ▼ -0.88 (-0.32%)
PPL 228.73 Decreased By ▼ -4.05 (-1.74%)
PRL 34.49 Decreased By ▼ -0.46 (-1.32%)
SNGP 98.83 Decreased By ▼ -0.78 (-0.78%)
SSGC 26.83 Decreased By ▼ -0.34 (-1.25%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.04 (-0.47%)
TPLP 9.33 Increased By ▲ 0.57 (6.51%)
TRG 71.61 Decreased By ▼ -0.14 (-0.2%)
UNITY 11.56 Decreased By ▼ -0.11 (-0.94%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
پاکستان

ترکیہ کی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش

معاہدہ طے پانے کے قوی امکانات ہیں، بلومبرگ
شائع January 10, 2026 اپ ڈیٹ January 10, 2026 02:35pm

بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس طرح کا اتحاد فطری معلوم ہوتا ہے کیونکہ ترکیہ کے مفادات تیزی سے سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات کے ہم آہنگ ہورہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات پیشرفت کے آخری مراحل میں ہیں اور ایک معاہدہ ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

بلومبرگ کے مطابق دفاعی اتحاد میں ترکیہ کی شمولیت جو کہ امریکہ کے بعد نیٹو میں سب سے بڑی فوجی قوت ہے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض کے سرکاری دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت، پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ اس معاہدے کو اپنی سیکیورٹی اور دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کی ساکھ اور اس پر بھروسے سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انقرہ میں قائم تھنک ٹینک تیپو کے ماہرِ حکمتِ عملی نہاد علی اوزکان کے مطابق، یہ اتحاد تینوں ممالک کی منفرد طاقتوں کا ایک مجموعہ ثابت ہوگا۔ سعودی عرب اپنے مالی اثر و رسوخ اور مضبوط معیشت کے ساتھ سرمایہ کاری فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور وسیع فوجی افرادی قوت کی بنیاد پر ایک کلیدی دفاعی قوت ہے جب کہ ترکیہ بہترین فوجی تجربے اور جدید ترین دفاعی صنعت کا حامل ہے جو جدید جنگی آلات تیار کر رہی ہے۔

اوزکان نے بلومبرگ کو بتایا کہ چونکہ امریکہ خطے میں اپنے ذاتی مفادات اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے طریقہ کار وضع کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں کی واضح پہچان کر سکیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ترکیہ کی وزارتِ دفاع، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور سعودی عرب کے حکام نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان قریبی فوجی تعلقات قائم ہیں۔ گزشتہ ماہ، اسلام آباد میں اعلیٰ سطح ترکیہ وفد نے پاکستان میں مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور پیداواری سہولیات کے قیام میں گہری دلچسپی کا عندیہ دیا۔

Comments

200 حروف