سربراہ آئی اے ای اے کی کینسرکیخلاف جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستانی جدوجہد کی ستائش
- پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد کینسر کے باعث ہلاک ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں یہ تعداد 10 ملین سے تجاوز کر چکی ، رافائل ماریانو گروسّی
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسّی نے پاکستان کی کینسر کے خلاف جدوجہد کو سراہا اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے تحت ملک بھر میں قائم 21 کینسر اسپتالوں اور تربیت یافتہ ماہرین کی خدمات کو نمایاں کیا۔ وزارتِ خارجہ نے بدھ کو آئی اے ای اے سربراہ کا ویڈیو پیغام شیئر کیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق آئی اے ای آئی کے سربراہ رافائل ماریانو گروسّی نے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ تمام شعبوں میں شراکت داری مضبوط کرنے کا پابند ہے، خاص طور پر امید کی کرن منصوبے کے تحت کےآئی این او آر جیسے اداروں کی سہولتوں کو مزید بہتر بنانے ، زندگی بچانے والی ریڈیوتھراپی اور تشخیصی خدمات تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد کینسر کے باعث ہلاک ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں یہ تعداد 10 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے آئی اے ای اے نے امید کی کرن منصوبہ شروع کیا ہے، جس میں فزیوتھراپی مشینیں کی فراہمی، زندگی بچانے والی تحقیق اور دنیا بھر میں تعلیم و تربیت دینا شامل ہے۔
گروسّی نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی اے ای سی نے ملک میں 21 کینسر اسپتال قائم کیے اور ماہرین کی تربیت کی۔ انہوں نے نئے ادارے انسٹی ٹیوٹ برائے نیوکلیئر مینجنگ آنکولوجی اور کیمو تھراپی کے قیام پر پاکستان کو مبارکباد دی۔
اپنے دورے کے دوران آئی اے ای اے سربراہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان اورآئی اے ای اے کے درمیان جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی جب کہ ستمبر میں بھی انہوں نے پاکستان کے پرامن جوہری پروگرام کی پیش رفت اور ایجنسی کے ساتھ قریبی تعاون کو تسلیم کیا تھا۔

























Comments
Comments are closed.