سلامتی کونسل میں پاکستان کا ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات کے باوجود مذاکرات پر زور
- دباؤ پر مبنی اقدامات فریقین کو قریب لانے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے ، پاکستانی مندوب اقوام متحدہ
پاکستان نے ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے سفارتی روابط پر زور دیتے ہوئے محاذ آرائی سے گریز کو ناگزیر قرار دیا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل منگل کو آئندہ لائحہ عمل پر شدید اختلافات کا شکار نظر آئی۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق بحث کے دوران 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں کونسل کے اندر اور اس سے باہر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے، جو مسئلے کے حل سے مزید دوری کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال پہلے ہی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں، طاقت کے یکطرفہ استعمال اور اسنیپ بیک میکانزم کے نفاذ سے متعلق مختلف تشریحات کے باعث پیچیدہ ہو چکی ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان بنیادی اختلاف 2015 کے ایران جوہری معاہدے، مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے) سے متعلق اجلاسوں کے جواز پر ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی قبول کی تھی۔
یہ معاہدہ ایران نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کے علاوہ جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ کیا تھا، تاہم 2018 میں صدر ٹرمپ کے دور میں امریکا معاہدے سے الگ ہو گیا، جس کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
سفیر عثمان جدون نے خبردار کیا کہ دباؤ پر مبنی اقدامات فریقین کو قریب لانے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے بلکہ اعتماد کے فقدان کو مزید بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں براہِ راست عام عوام کو متاثر اور معاشی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام حل طلب مسائل کا حل سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے فریقین کے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سفارتی روابط کی بالادستی اور تصادم و تنازع سے بچاؤ کا حامی رہا ہے۔ سفیر عثمان جدون کے مطابق جے سی پی او اے نے مسئلے کے حل کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کیا تھا، جو بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور قبولیت پر مبنی تھا اور اگر فریقین میں آگے بڑھنے کی نیت ہو تو اس کا بنیادی ڈھانچہ آج بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے سی پی او اے کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملے پر موجود اختلافات اس وقت ختم ہو سکتے ہیں جب تمام فریقین کو مفاہمت اور مصالحت کے جذبے کے ساتھ حل کی طرف لایا جائے۔
سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ گزشتہ چند مہینوں میں مجروح ہونے والے سفارتی اعتماد کو بحال کرنا انتہائی ضروری ہے، جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کردار نہایت اہم ہے، جو رکن ممالک کی جوہری ذمہ داریوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے اور اسے یہ فریضہ غیرجانبداری سے انجام دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ذریعے بھی تعمیری کوششیں کی جانی چاہئیں ،تاکہ تمام فریقین کو قابلِ قبول مفاہمت پر آمادہ کیا جا سکے۔
اجلاس کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کی سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ 2025 کے دوسرے نصف میں سفارتی کوششوں میں تیزی کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام پر آگے بڑھنے کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ عالمی برادری کے لیے بہترین راستہ ایک مذاکراتی تصفیہ ہے، جو ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو یقینی بنائے اور پابندیوں میں نرمی کا باعث بنے۔
منگل کا اجلاس اس وقت ہوا جب فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسنیپ بیک میکانزم فعال کیا، جس کے نتیجے میں پابندیاں دوبارہ نافذ کی گئیں۔
امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ جوہری معاہدے سے متعلق قرارداد بدستور نافذ العمل ہے، اس لیے کونسل کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے پر اجلاس جاری رکھنے چاہئیں۔
فرانس کے نائب مستقل مندوب جے دھرمادھیکاری نے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی بین الاقوامی جوہری ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنا عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کا ذخیرہ فوجی سطح تک افزودہ کیا گیا تو وہ 10 جوہری دھماکہ خیز آلات بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
ادھر روس کے سفیر واسیلی نیبینزیا نے سلامتی کونسل کی سلووینیا کی صدارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے کہ غیر موجود ایجنڈے پر اجلاس بلانے پر زور دینے والوں کے دباؤ کے باوجود غیرجانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

























Comments
Comments are closed.